جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ریٹائرڈ ججز کو گاڑی فراہم کرنے کی تجویز باعث شرم ہے، جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

datetime 25  جون‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر ریٹائرڈ ججز کو گاڑی فراہم کرنیکی تجویز کو نامناسب اور باعث شرم قرار دیدیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی

نے فل کورٹ کے ذریعے ریٹائرڈ ججز کو مراعات دینے کی مخالفت کی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہاکہ ریٹائرڈ ججز کو گاڑی فراہمی کی تجویز نامناسب اور باعث شرم ہے، عدالتی ضابطہ اخلاق اور حلف کے تحت جج خود کو مراعات کے لیے عہدے کا استعمال نہیں کرسکتا۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہاکہ آخری فل کورٹ میٹنگ 12 دسمبر 2019 کو ہوئی، انصاف کی فراہمی کو متاثر کرنے والے کئی اہم معاملات 2019 سے توجہ طلب ہیں، رجسٹرار سپریم کورٹ کی ان معاملات کے بجائے نظر عوامی وسائل کی طرف ہے، رجسٹرار نے فل کورٹ کی منظوری کیلئے ایک سرکلر بھجوایا جس میں ریٹائرڈ ججز کو گاڑیاں فراہم کرنے کے لیے فل کورٹ کی منظوری مانگی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے یکم جون کو یہ انتہائی باعث شرم تجویز موصول ہوئی، اسی روز رجسٹرار سے کہا کہ وہ قانون یاضابطہ بتائیں جس میں فل کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے، رجسٹرار بجائے غیر قانونی کام روکنے کے یہ کہہ رہے ہیں کہ جج اپنے حلف سے روگردانی کریں، ریٹائرڈ ججز کے لیے مراعات کی تجویز دینا جج کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریٹائر ہونے کے بعد اس کا براہ راست فائدہ ہم ججز کو ہوگا، ججز کے حلف میں شامل ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق پر عمل کریگا، ریٹائرڈ ججز کیلئے مراعات کی منظوری کا مطلب یہ ہے کہ ہم بطور جج اپنا عہدہ ذاتی فائدے کیلئے استعمال کریں گے،

جو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگا۔قاضی فائز عیسٰی کے مطابق رجسٹرار اور ہم ججز کو علم ہونا چاہیے کہ ہمارے عہدے کے تقاضے کیا ہیں، رجسٹرار کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ہر جج کی جانب سے کچھ بھی کر سکتا ہے، ریٹائرڈ جج کو کسی بھی قسم کی مراعات دینے کی تجویز سے اختلاف کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریٹائرمنٹ سے کچھ ماہ پہلے فل کورٹ میٹنگ بلائی،

اس فل کورٹ میٹنگ میں ریٹائرڈ چیف جسٹس کے لیے گریڈ 16 کے سیکرٹری کی منظوری لی گئی، فل کورٹ سے 2018 میں منظوری اس وقت لی گئی جب مجھ سمیت کئی ججز چھٹیوں پر تھے،جب فل کورٹ منٹس منظوری کے لیے مجھے بھجوائیگئے تو میں نے اعتراض لگایا اور اختلاف کیا۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت جس کے مقدمات عدلیہ کے سامنے ہوں وہ فل کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کرسکتی؟۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…