جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

لاپتہ افراد کمیشن ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہا اسلام آباد ہائیکورٹ

datetime 23  جون‬‮  2022 |

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتا افراد کی بازیابی کیس میںکہا ہے کہ لاپتا افراد کمیشن اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 8 سال سے لاپتا زاہد امین اور ایک برس سے لاپتا صادق امین کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں کمیشن اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔ کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وضاحت کرے کیوں مؤثر اور قابل ذکر ایکشن نظر نہیں آرہا؟۔ کمیشن رپورٹ جمع کرائے کہ پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کرنے پر ذمے داروں کے خلاف کاروائی کے لیے کیوں نہیں لکھا؟۔عدالت نے کہا کہ ریکارڈ سے معلوم ہے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد کمیشن کی کاروائی بادی النظر میں رسمی ہے، ایک دہائی قبل تشکیل دیے گئے کمیشن نے جبری گمشدگی خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو تجاویز کیوں نہیں دیں؟، پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ ہونے کے بعد ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں کہ کبھی کمیشن نے کاروائی کا لکھا ہو۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ یہ عدالت بار بار کہہ چکی ہے جبری گمشدگی سنگین جرم اور آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،عدالت آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ پٹیشنرز شہری ہیں، کمیشن کی ڈیوٹی ہے کہ لاپتا افراد کے اہل خانہ تک خود پہنچے۔

سماعت کے دوران رجسٹرار لاپتا افراد بازیابی کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں لاپتا افراد کمیشن نے زاہد امین کو جبری گمشدگی ڈیکلیئر کیا ، جس پر عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جب کہہ دیا کہ یہ جبری گمشدگی ہے تو آپ نے پروڈکشن آرڈر کس کو ایشو کیے؟

عدالت نے رجسٹرار سے استفسار کیا کہ کیا کمیشن صرف رسمی کارروائی کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کرتا ہے؟۔آپ پٹیشنرز کو متعلقہ معلومات کیوں نہیں دے رہے؟ آپ کو تو خود پٹشنرز تک پہنچنا چاہیے۔عدالت نے کہا کہ کمیشن لاپتا افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ٹھیک طریقے سے پیش نہیں آرہا۔

آپ ان کے گھروں کو جائیں۔ چیف جسٹس نے رجسٹرار سے استفسار کیا کہ پروڈکشن آرڈر کب جاری ہوئے ؟ تاریخ کیا ہے، جس پر درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری نے بتایا کہ زاہد امین کا 14 ستمبر 2020 کو پروڈکشن آرڈر جاری ہوا۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ پروڈکشن آرڈر جاری کرے بھول گئے؟

جن کو جاری کیا ،کیا انہوں نے انکار کردیا ؟ جس پر رجسٹرار لاپتا افراد بازیابی کمیشن نے جواب دیا کہ کسی نے انکار نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ کیا آپ نے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف کاروائی کا لکھا ؟ آپ نے 14 ستمبر 2020 کو پروڈکشن آرڈر جاری کیا۔

بادی النظر میں آپ کو کچھ نظر آیا ہو گا۔ اپنے آپ کو شرمندہ نہ کریں کیا۔ عدالت نے سوال کیا کہ اس سے بڑا کوئی ایشو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ہو سکتا ہے؟بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتا زاہد امین کے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کرنے سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے لاپتا افراد کمیشن کو لاپتا افراد کے اہل خانہ کو مکمل سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…