ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

دہشتگردی سے متاثرہ صحافیوں کی تربیت کیلئے پشاور یونیورسٹی میں جدید لیب قائم

datetime 19  اگست‬‮  2015 |

پشاور(نیوز ڈیسک)پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندی اور دہشت گردی سے متاثرہ صحافیوں کی تربیت کیلئے پشاور یونیورسٹی میں پہلی مرتبہ اپنی نوعیت کی پہلی جدید لیب قائم کردی گئی ہے۔اس جدید لیب میں صحافیوں کو غیر ملکی ٹرینرز کی نگرانی میں سکیورٹی، انصاف اور امن سے متعلق جدید عملی تربیت دی جارہی ہے۔یہ لیب غیر سرکاری برطانوی ادارے اعتبار کے تعاون سے شعبہ صحافت اور ابلاغ عامہ پشاور یونیورسٹی میں قائم کی گئی ہے۔ اس میں شعبہ صحافت اور ابلاغ عامہ بحیثیت پارٹنر شامل ہیں۔غیر ملکی ٹرینرز کی نگرانی میں قائم اس لیب میں فاٹا اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو ذرائع ابلاغ کے تمام شعبوں ریڈیو، ٹی وی ، اخبارات اور شوشل میڈیا میں جدید نوعیت کی تربیت اور کورسز کروائے جارہے ہیں۔یہ جدید لیب حال ہی میں قائم کی گئی ہے جس کے پہلے بیچ کی تربیت کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔شعبہ صحافت اور ابلاغ عامہ پشاور یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر الطاف اللہ خان کا کہنا ہے کہ پشاور یونیورسٹی کیمپس میں صحافیوں کی تربیت کیلئے تمام تر وسائل موجود تھے تاہم جدید لیب کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی تھی جو اب پوری ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید لیب ایک نیوز روم کی طرح ہے جو عام طورپر کسی ٹی وی یا اخبار کے دفتر میں ہوتا ہے جہاں صحافیوں کو بین الاقوامی میڈیا میں استعمال ہونے والے جدید آلات کی مدد سے تربیت فراہم کی جارہی ہے۔پروفیسر الطاف اللہ کے مطابق لیب میں صحافیوں کو چھ ہفتوں کے عملی کورسز کرائے جاتے ہیں جس میں زیادہ توجہ سکیورٹی ، انصاف اور امن سے متعلق موضوعات پر دی جارہی ہے تاکہ ان شعبوں میں ان کی تربیت کی جاسکے۔برطانوی ادارے اعتبار کے تھیٹر کوارڈنیٹر عاطف افضل نے بتایا کہ جدید لیب کے قیام کا مقصد جنگ سے متاثرہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کی صحافیوں کی سکیورٹی اور قانون سے متعلق شعبوں میں عملی ترییت دینا ہے تاکہ میڈیا کے ذریعے سے امن کو فروغ دیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 16 صحافیوں کو منتخب کیا گیا ہے جنھیں ڈیڑہ ماہ کے دوران تربیت دی جائیگی جبکہ اس کورس کے اختتام پر صحافیوں کو اسناد بھی دی جائیں گی۔خیال رہے کہ قبائلی علاقوں اور خیبر پِختونخوا میں 2004 سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی صحافی فرائض کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…