بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

سٹیٹ بینک کی خاموشی ، شہری کرنسی مافیا کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور

datetime 30  اپریل‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)عید الفطر کے موقع پر اسٹیٹ بینک یا ملک کے پرائیویٹ بینکوں کی جانب سے شہریوں کو نئے کرنسی نوٹ فراہم نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے عید کے موقع پر اپنے پیاروں کو نئے نوٹوں کی عیدی دینے کی روایت برقرار رکھنے کے لیے ملک بھر کے شہری کرنسی مافیاز کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان

میں عید الفطر کے موقع پر نئے کرنسی نوٹوں کی غیر معمولی طلب ہوتی ہے۔شہری اپنے پیاروں کو نئے کڑک نوٹ عیدی کی شکل میں دیتے ہیں اور عیدی لینے والے بھی خوش ہوتے ہیں،یہ روایت برسوں پرانی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہر عید الفطر کے موقع پر شہریوں کو نئے نوٹوں کی فراہمی کا بھر پور موقع دیتا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں سال اسٹیٹ بینک انتظامیہ کی جانب سے اس سلسلے میں پراسرار خاموشی رہی اور کوئی پالیسی وضع کی گئی اور نہ ہی اعلان جاری ہوا۔نجی بینکوں کی جانب سے بھی شہریوں کو نئے کرنسی نوٹ فراہم نہیں کیے گئے تاہم ملک بھر کی کرنسی مارکیٹوں میں نئے نوٹ وافر مقدار میں دستیاب ہیں جو شہریوں کو مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں۔جوں جوں عید قریب آ رہی ہے، مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں نئے کرنسی نوٹوں کی طلب میں اضافے کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔سروے کے مطابق کراچی کی کرنسی مارکیٹ میں 10 روپے کی ایک گڈی پر 150 سے 200 روپے، 20 روپے والی گڈی پر 250، 50 روپے والی گڈی پر 300 روپے سے زائد، 100 روپے والی ایک گڈی پر 800 سے 1 ہزار روپے، 500 روپے کی گڈی پر 1 ہزار سے 1500 ہزار روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کائونٹرز سے عید الفطر کے موقع پر نئے کرنسی نوٹ فراہم کیے جاتے تھے۔کورونا وائرس کے دو سال کے دوران بھی ملک بھر میں شہریوں کو موبائل فون کی ایس ایم ایس سروس پر شناختی کارڈ نمبر بھیجنے کے طریقہ کار سے کمرشل بینکوں سے نئے نوٹ دستیاب ہوتے رہے مگر اس سال کوئی پالیسی وضع کی گئی اور نہ ہی کوئی اعلان سامنے آیا۔اسٹیٹ بینک کا پبلک ریلیشن ڈیپارٹمنٹ بھی بار بار رابطے پر اس سلسلے میں کوئی مثبت جواب دینے سے قاصر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…