جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور،دہشت گردکمانڈر کومارنے پر قابل تحسین اقدام

datetime 17  اگست‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختون خوا ناصر خان دُرانی نے سنٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے افسر وںو جوانوں کو دہشت گردی کے 23 مقدمات میں مطلوب دہشت گرد کمانڈر جن کی سر کی قیمت 15 لاکھ روپے مقرر تھی کو مارنے پر نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے نوازا۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز تھانہ درابن ڈی آئی خان پولیس کی ٹیم رات 12 بجے بکتر بند گاڑی (APC) میں معمول کی گشت پر تھی۔ پولیس کی ٹیم جو نہی درابن ہسپتال کے قریب پہنچی تو انہیں کالج کی جانب سے زور داردھماکے کے آواز سنائی دی۔پولیس کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی تو دیکھا کہ دہشت گردوں نے گورنمنٹ کالج درابن میں قائم سیکورٹی فورسز کے کیمپ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرادی ہے۔ دہشت گردوں جن کی تعداد 6سے 7 تک تھی نے پولیس کی ٹیم کو دیکھتے ہی پولیس اے پی سی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اے پی سی میں موجودپولیس اہلکاروں نے بھی دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ فائرنگ سے اے پی سی کی گاڑی میں نصب ایل ایم جی سے دہشت گردوں پر فائرنگ کرنے والا ایلیٹ فورس کا کانسٹیبل امیر نواز شہید ہوگیا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں دہشت گردوں کا کمانڈر بدنام زمانہ دہشت گرد امین جان عرف ملنگ ہلاک ہوگیا۔ امین جان کے سر کی قیمت 15 لاکھ روپے مقرر تھی اور انتہائی مطلوب افراد میں تیسرے نمبر پر اور دہشت گردی کے 23 مقدمات میں مطلوب تھے۔ جن میں 2013میں سنٹرل جیل ڈیرہ پر دہشت گردوں کے حملے کی منصوبہ بندی کرنے، ایس ایچ اُو تھانہ صدر سیف الرحمن کے دوبھائیوں کو گھر میں فائرنگ کرکے قتل کرنے سمیت، اغوا برائے تاوان ، ڈکیتوں اور قتل کے مقدمات شامل ہیں۔ دہشت گردکمانڈر کوعلاقے میں دہشت گردی اور خوف کی بڑی علامت سمجھا جاتا تھا۔ رات کی تاریکی میں دہشت گرد اپنے تین ساتھیوں کو زخمی حالات میں لیکر فرارہو گئے تھے۔جو بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس ناصر خان دُرانی نے مذکورہ واقعے میں رات کی تاریکی میں ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کی جان ہتھیلی پر رکھ کر بروقت ایکشن اور بے انتہا دلیری اور بہادری کی تعریف کی۔ آئی جی پی نے جرات و شجاعت کے ان پیکروں کی کارکردگی کو فورس کے دوسرے اہلکاروں کے لیے مشعل را ہ قرار دیا۔ آئی جی پی نے ایس ایچ اُو درابن اور اُن کے ٹیم کے ارکان کو فرداً فرداً گلے سے لگایا اور انہیں رات کی تاریکی میں ان کی بے انتہا دلیری پر داد دیا اور ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے انہیں فورس کا قیمتی اثاثہ قرار دیا اور انہیں مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو منوانے کی تلقین کی۔ آئی جی پی نے ایس ایچ اُو درابن اے ایس آئی عبدالغفار اور کانسٹیبلان نصیر، الیاس ،گل باران اور ڈرائیور حمید اللہ کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے نوازا۔پرسنل اسٹاف آفیسر برائے آئی جی پی محمد افضل بھی اس موقع پر موجود تھے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…