منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

عمران خان کی حکومت کا ایک اور جرات مندانہ اقدام ، کرارا جواب ملنے پر امریکہ ہاتھ ملتا رہ گیا

datetime 2  اپریل‬‮  2022 |

اسلام آباد، واشنگٹن(آئی ا ین پی، این این آئی ) پاکستان نے امریکا میں جمہوریت سے متعلق مکالمے میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا میں جمہوریت کے عنوان سے مکالمے کا انعقاد کیا گیا، پاکستان سے تین منٹ پر محیط “ریکارڈڈ بیان دینے کا کہا گیا۔

یہ بھی کہا گیا سوال و جواب سیشن میں پاکستان شامل نہیں ہوگا جس پر ہم نے اس مکالمے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم کشیدگی کے قطعی حامی نہیں، جنگیں معاشی بحرانوں سمیت ہمہ قسم کے مضمرات کا باعث ہوتی ہیں اور اس کے اثرات پورے خطے اور دنیا پر مرتب ہوتے ہیں، ملک چھوٹے بڑے ہوتے ہیں مگر خود مختاری ،سالمیت عزیز ہوتی ہے۔دوسری جانب سابق امریکی فوجی سربراہ مائیک میولن نے کہا ہے کہ امریکا واضح طور پر پاکستان سے فاصلہ اختیار کر چکا ہے جبکہ وائٹ ہائوس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی سیاست میں امریکا کے ملوث ہونے کے دعوں کو مسترد کر دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل میولن نے کہا کہ یہ کہنا مشکل، بہت مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران ہم واضح طور پر پاکستان سے فاصلہ اختیار کر چکے ہیں اور پاکستان چین کی چھتری کے نیچے جاتا جارہا ہے۔

ایڈمرل مولن اکتوبر 2007 سے ستمبر 2011 تک امریکی فوجی کے سربراہ تھے، جو میموگیٹ تنازع میں بھی نامزد تھے جو کہ ایک یادداشت کے گرد گھومتی ہے، جس کا مقصد ظاہری طور پر پاکستان میں ایک خوفناک فوجی قبضے کو روکنے کے لیے امریکی تعاون حاصل کرنا تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کے عالمی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ قربت ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ بیجنگ ایسا پڑوسی چاہے گا جو امریکا کے بجائے ان کے قریب ہو۔ان کا مزید کہنا تھا مذکورہ وجوہات کی بنا پر پاکستان اور امریکا کے تعلقات کچھ وقت سے مشکلات کا شکار ہیں۔

سقوط کابل میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل میولن کا کہنا تھا کہ انہوں نے یقینی طور پر اسے روکنے کے لیے بہت کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ بطور امریکی آرمی چیف میں نے کانگریس کا بتایا تھا کہ پاکستانی خفیہ ادارے افغانستان میں فعال ہیں اور میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ دونوں طرف رابطے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…