اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جسٹس جواد ایس خواجہ ملک کے23ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے پیر17اگست کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،وہ24دن چیف جسٹس کے عہدے پر رہنے کے بعد نو ستمبر کو65 سال کی عمر تک پہنچنے کے بعدسبکدوش ہو جائیں گے۔ملک کی عدالتی تاریخ میں سب سے کم عرصہ چیف جسٹس پاکستان رہنے والے افراد کی فہرست میں جسٹس جوادکا دوسرا نمبر ہوگا۔ان سے پہلے چیف جسٹس محمد شہاب الدین صرف10 دن کیلیے چیف جسٹس رہے تھے۔ انھوں نے تین مئی 1960کو بطور چیف جسٹس عہدے کا حلف لیا تھا اور 12مئی کو سبکدوش ہوئے۔سب سے کم عرصے کیلیے چیف جسٹس رہنے والوں کی فہرست میں جسٹس بشیر جہانگیری تیسرے نمبر پر ہیں جنھوں نے سات جنوری 2002 کو چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی رٹائرمنٹ پر چیف جسٹس کا حلف اٹھایا تھا اور اسی ماہ کی31 جنوری کو رٹائرہوئے۔جسٹس شہاب الدین اور جسٹس جہانگیری محض چند دنوں کیلیے چیف جسٹس رہے جبکہ جسٹس جواد تیسرے ہوں گے۔ملک کی عدالتی تاریخ میں محض چند مہینوں کیلیے چیف جسٹس رہنے والوں میں تین افراد چیف جسٹس ایس اے رحمن،چیف جسٹس فضل اکبر اور چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی شامل ہیں۔ جسٹس ایس اے رحمن یکم مارچ 1968 سے 3 جون ،جسٹس فضل اکبر چار جون1968سے 17 نومبر تک فائز رہے جبکہ چیف جسٹس تصدق حیسن جیلانی نے 11دسمبر 2013کو حلف لیا اور پانچ جولائی 2014کو رٹائر ہوئے۔
نئے چیف جسٹس جواد خواجہ پیر کو حلف اٹھائیں گے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)
-
موسم گرما کی تعطیلات کے حوالے سے وزیر تعلیم کا اہم بیان آگیا
-
وفاقی حکومت کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بارے اہم فیصلہ
-
لاپتہ ہوٹل مالک کو کھانے والا 15 فٹ لمبا مگرمچھ دریا سے نکال کر ہلاک کر دیا گیا
-
تیزہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری
-
نواز شریف نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر دیا
-
سرکاری ملازمین کیلیے عید الاضحیٰ سے قبل بڑی خوشخبری
-
لاہور،رکشہ دلوانے کے بہانے ساتھ لے جاکر 2لڑکیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا
-
نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ! حکومت نے والدین کی بڑی مشکل آسان کردی
-
سی ڈی اے نے 98 غیر قانونی ہاؤسنگ منصوبوں کی فہرست جاری کر دی
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
امریکی حکومت خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز منظرِ عام پر لے آئی
-
بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانی ہوشیار ہوجائیں!
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پرعائد لیوی کی شرح بڑھا دی



















































