ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

طاہرہ کھوسو قتل کیس: اہم ملزم قتل کردیا گیا

datetime 14  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی طاہرہ کھوسو کے قتل کے اہم ملزم قار علی عمرانی کو جمعرات کو بالکل ا±سی انداز میں قتل کردیا گیا، جس طرح انھوں نے رواں سال 19 مارچ کو جیکب آباد کے ڈنگر محلہ میں مبینہ طور پر اپنی اہلیہ کو قتل کیا تھا.طاہرہ کھوسو کے قتل کے بعد انسانی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور انھوں نے سپریم کورٹ سے اس معاملے کا از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا.تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کرنے والے خان محمد امین خان کھوسو کی پوتی طاہرہ کھوسو،جیکب آباد کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جن کی شادی وقار علی عمرانی سے ہوئی.مقتولہ کے خاندان کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی درخواست کے مطابق طاہرہ کھوسو کے والد عبدالسمیع کھوسو، بھائی ارشد محمود اور انکل محمد اقبال، 19 مارچ کو طاہرہ کے گھر گئے جہاں انھوں نے اس کے شوہر ملزم وقار کو اپنے خاندان کے 3 مردوں کے ہمراہ طاہرہ پر بدترین تشدد کرتے ہوئے دیکھا۔درخواست کے مطابق وقار، جس پر الزام تھا کہ اس کے کسی دوسری خاتون سے تعلقات ہیں، نے طاہرہ کی گردن پر گولی ماری،انھیں ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئیں، جبکہ تمام ملزمان جائے وقوع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے.طاہرہ کے خاندان کے مطابق پولیس نے ملزمان کو گرفتارنہیں کیا کیونکہ انھیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جارہا تھا.5 اگست کو مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جیکب آباد کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملک ظفر اقبال اعوان کو حتمی شوکاز نوٹس جاری کیا، جس میں انھیں ملزم وقار عمرانی کو گرفتار کرکے 16 ستمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا گیاتاہم ملزم کو انتقامانہ کارروائی کرتے ہوئے قتل کردیا گیابابا کوٹ پولیس کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ڈسٹرکٹ نصیرآباد کے تعلقہ تمبو کے گاو¿ں سردار فتح علی خان عمرانی کے کچھ رہائشیوں نے رات 3 بجے کے قریب وقار علی عمرانی کی خون میں لت پت لاش ان کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر دیکھی.وقار علی عمرانی کو گردن پر گولی مار کر قتل کیا گیا، جبکہ لاش پر تشدد کے نشانات بھی واضح تھے.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…