جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

حکومتی سینیٹراپنی ہی حکومت پربرس پڑے

datetime 13  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سینیٹ اجلاس میں حکومتی سینیٹرصلاح الدین ترمذی لوڈشیڈنگ کیخلاف اپنی حکومت پربرس پڑے اورکہاکہ سینیٹ ڈوبیٹنگ کلب ہے جس کے ہاتھ میں مائیک آئے وہ شعروشاعری بھی کرتاہے،سینیٹ بااختیارنہیں،ڈر سے اپنے علاقے میں نہیں جاسکتے،جبکہ پریذائیڈنگ افسرجاوید عباسی نے ہزارہ ،مانسہرہ اور بلوچستان میں لوڈ شیڈنگ سے متعلق معاملہ قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کو بھجوا دیا۔ جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پرمسلم لیگ ن کے سینیٹرصلاح الدین ترمذی نے لوڈشیڈنگ کے معاملے پراپنی حکومت کو شدید تنقید کانشانہ بنایا او رکہاکہ حکومت نے آج اخبارات کے پچھلے پورے صفحے پراشتہار دیاہے کہ ملک میںبجلی کی صورتحال بہتر ہے لیکن ہمارے علاقے میں بجلی آتی ہے تو ایسے جیسے عید کاچاند نظرآگیاانہوں نے کہاکہ سینیٹ ڈوبیٹنگ کلب ہے جس کے ہاتھ میں مائیک آجائے وہ شعروشاعری بھی سناتاہے،ایم این اے بااختیارہیں ان کے پاس فنڈز ہیں ہم ڈر سے اپنے علاقے میں نہیں جاسکتے انہوں نے کہاکہ اس معاملے کیلئے کوئی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے،ہم تو چپڑاسی کے تبادلے کی درخواست دیں تو کہا جاتا ہے ایم پی اے سے لکھوا کر لاﺅ، ہم اپنی نالائقی کا اعتراف کرتے ہیں۔نکتہ اعتراض پرسینیٹر میر کبیر شاہی اور سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ بجلی کی گھروں تک ترسیل الیکٹریسٹی ایکٹ کے تحت واپڈا کی ذمہ داری ہے کہ ترسیل کی کمپنیاں صارف تک پہنچانے کے لئے پیسے مانگتی ہیں، جہاں صارفین نہیں دے سکتے جہاں ارکان اسمبلی کے فنڈز سے یہ رقم فراہم کی اور ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، صارفین کے حقوق ان کو دلائے جائیں جو پیسے وصول کئے جا رہے ہیں وہ ناجائز ہیں، یہ صارفین کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ یہ اہم ایشوز ہیں، پیر کو ساڑھے 11 بجے ارکان کے ساتھ اس حوالے سے ملاقات کر کے ان معاملات کو حل کرنے کےل ئے پیش رفت کریں گے۔ سینیٹر اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ جو معاملات اٹھائے گئے ہیں ان کے جوابات اسی فورم پر آنے چاہئیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ارکان جہاں کہیں وہاں آ کر جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔ اس موقع پرپریذائیڈنگ افسرجاوید عباسی نے کہا کہ یہ ایوان با اختیار ہے، کوئی قانون اس ایوان کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا۔ وزیر مملکت برائے بلیغ الرحمن نے کہا کہ جن علاقوں میں بجلی چوری زیادہ ہے، وہاں لوڈشیڈنگ زیادہ ہے، جہاں چوری کم ہے، وہاں لوڈ شیڈنگ کم ہے، پورے ملک میں بجلی کی پیداوار بھی حکومت نے بڑھائی ہے، جہاں انفراسٹرکچر موجود نہیں تھا وہاں فراہم کیا گیا ہے، ٹرانسمیشن لائنوں کو بھی بہتر کیا گیا ہے، لوڈ شیڈنگ میں بھی کمی آئی ہے، سینیٹ بہت با اخیتار ہے اس نے فعال طریقے سے اپنا کردار ادا کیا ہے، عوامی سماعتوں کا نیا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے، ہم پارلیمان کو جوابدہ ہیں۔ انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا کہ مانسہرہ میں لوڈ شیڈنگ کا معاملہ کمیٹی کو جانے پر کوئی اعتراض نہیں، شیڈول کے بغیر بجلی جانے کا کوئی جواز نہیں۔ پریذائیڈنگ افسر نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ دو سینیٹرز بھجوا کر بلوچستان سے چیک کیا جائے کہ کتنی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ چیئرمین نے بلوچستان میں لوڈ شیڈنگ کا معاملہ بھی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…