بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی سفارتخانے کی 6 سکیورٹی بیرئیرز برقرار رکھنے کی درخواست

datetime 12  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ڈپلومیٹک انکلیو کے حفاظتی زون میں واقع امریکی سفار تخانے نے وفاقی ترقیاتی ادارے سے اپنی نئی تعمیر شدہ عمارت کے گرد قائم چھ سکیورٹی بیرئیر زبرقرار رکھنے کی اجازت مانگی ہے ۔ سفار تخانے نے یہ درخواست وزارت خارجہ کے ذریعے سی ڈی اے کو دی ۔ معاملے پر سی ڈی اے اور وزارت خارجہ کے درمیان حالیہ خط وکتابت میں کہا گیا ہے کہ یہ بیرئیر ز امریکی سفارتخانے کی عمارت کے ارد گرد گلیوں میں حفاظتی نقطہ نظر سے نصب کئے گئے ہیں ۔ جواب میں سکیورٹی بیرئیر ز کے محل وقوع کی وضاحت کرتے ہوئے سی ڈی اے نے کہا کہ یہ معاملہ انکے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ۔ معاملہ سکیورٹی اور ٹریفک کے مسائل پر مبنی ہے لہذا اسلام آباد پولیس سے رابطہ کیاجائے ۔ سی ڈی اے نے خط میں لکھا کہ سفار تخانہ اپنی حدود کے اندر سکیورٹی اقدامات کرسکتا ہے ، مزید احکامات کیلئے وزارت خارجہ کو اسلام آباد پولیس سے رجوع کرنیکی درخواست کی گئی ہے ، سیکٹر جی فائیو کے ڈپلو میٹک انکلیو میں 43 سفار تخانے اور ہائی ک مشنز واقع ہیں اور یہ علاقہ عام لوگوں کیلئے بند ہے اسکے باوجود کئی سفار تخانوں نے مزید سکیورٹی بیرئیر ز لگا رکھے ہیں ۔ زیادہ ترنے اس سلسلے میں حکومت سے اجازات حاصل کررکھی ہے ۔ امریکی سفارتخانے کی جانب سے یہ اجازت اس وقت مانگی گئی ہے جب سی ڈی اے کی جانب سے تجاوزات کیخلاف آپریشن میں امتیاز ی سلوک کا معاملہ عوامی بحث کا حصہ بنا ہوا ہے ۔ اسی سے متعلقہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے جہاں عدالت نے حکم دیا تھا کہ رہائشی علاقوں اور غیر ملکی سفارتخانوں سمیت شہر بھر میں تمام رکاﺅٹیں ختم کی جائیں ۔ جنوری میں سی ڈی اے نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اسلام آباد میں 216 جگہوں کو بند کیاگیا ہے ۔ عدالت نے اس سب کو فوری طورپر کھولنے کا حکم دیا تھا ۔ سی ڈی اے کے سینئر اہلکار نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے تناظر میں سی ڈی اے نے وزارت خارجہ کے ذریعے غیر ملکی مشنز کو تجاوزات کے خاتمے کی درخواست کی تھی ، ماضی میں دیئے گئے اجازت نامے بھی عدالتی حکم کے بعد واپسی لیے گئے تاہم غیر ملکی مشنز نے وزارت خارجہ سے درخواست کی کہ انہیں سکیورٹی اقدامات قائم رکھنے کی اجازت دی جائے ۔ سی ڈی اے ترجمان رمضان ساجد نے کہا کہ انہیں معاملے کا علم نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں کسی بھی درخواست کا قوانین اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں جواب دیاجائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…