پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

سرکاری اسپتال کا میڈیکولیگل سیکشن چندے پر چلنے کا انکشاف، پولیس سرجن کی جیب پر 4 ہزار کا بوجھ

datetime 18  فروری‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی) سندھ کے تیسرے بڑے سرکاری اسپتال عباسی شہید کا میڈیکولیگل سیکشن چندے پر چلنے کا انکشاف ہوا ہے، ایڈیشنل پولیس سرجن کی جیب پر 4 ہزار کا بوجھ پڑا ہوا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق سندھ کے تیسرے بڑے سرکاری اسپتال کا اہم یونٹ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، ایڈیشنل پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ عباسی شہید اسپتال کے میڈیکولیگل سیکشن کی تباہ حالی کے ذمہ دار کے

ایم سی اور سندھ حکومت ہیں۔اے پی ایس شاہد نظام نے بتایا کہ تمام متعلقہ حکام کو بہت سارے خطوط لکھے گئے لیکن جواب تک نہیں دیا جاتا، دو سال سے متعلقہ یونٹ کو کاربن کاپی تک فراہم نہیں کی گئی۔انھوں نے انکشاف کیا کہ ایم ایل سیکشن میں مشین موجود ہے لیکن ایکسرے نہیں ہے، کمرہ موجود ہے لیکن اسٹیشنری موجود نہیں ہے، میں اور دیگر ایم ایل اوز چندہ کر کے میڈیکل بک منگواتے ہیں، میری جانب سے 4 ہزار باقی ایم ایل او 2 ہزار چندہ دیتے ہیں، اور ایک میڈیکل بک 3 دن چلتی ہے۔ایڈیشنل پولیس سرجن نے بتایاکہ ہمیں کاربن کاپی تک سرکاری نہیں ملتی، 2 سال سے میڈیکولیگل ڈپارٹمنٹ میں ایکسرے نہیں کیے جا رہے، ایکسرے مشین موجود ہے لیکن فلمیں فراہم نہیں کی جاتیں، مریضوں کو ایکسرے باہر سے کروا کر لانے کا کہا جاتا ہے، کرمنل افراد جعلی ایکسرے بنا کر جعلی مقدمات درج کروا دیتے ہیں۔انھوں نے بتایا پوسٹ مارٹم کے لیے انسانی اعضا کو محفوظ کرنا پڑتا ہے، اعضا محفوظ بنانے کا کیمیکل 2 ہزار کا آتا ہے، فارمیلین کیمیکل اور برنی تک اپنے پیسوں سے منگواتے ہیں۔شاہد نظام نے کہاکہ صبح عدالتوں کے چکر اور ڈیوٹی ٹائم سے زیادہ وقت دیتے ہیں، کراچی میں 90 سیٹیں مرد ایم ایل او 20 خواتین ایم ایل او کی ہیں، لیکن کراچی میں ٹوٹل 20 مرد اور 5 خواتین ایم ایل او تعینات ہیں، 2 ایم ایل او جناح اور 2 عباسی اور ایک سول اسپتال میں کام کرتے ہیں۔اے پی ایس نے بتایا کہ 2 سال میں 6 سینئر ریٹائرڈ ہوئے لیکن متبادل نہیں ملا، نئے ایم ایل او نہ آئے تو سسٹم تباہ ہو جائے گا۔انھوں نے خبردار کیا کہ کراچی کے 6 میڈیکولیگل سینٹر کئی سالوں سے بند ہیں، غیر فعال مراکز میں کورنگی، سعود آباد، لیاری، قطر، نیو کراچی اور لیاقت آباد سینٹرز شامل ہیں، جب کہ ان تمام سینٹرز میں ایم ایل اوز کی سیٹیں منظور کی جا چکی ہیں۔شاہد نظام نے مزید بتایا کہ مردہ خانے میں 3 کی جگہ 1 اٹینڈنٹ ہے جو 24 گھنٹے ڈیوٹی دیتا ہے، لیڈی ایم ایل او کے ساتھ فی میل نرس بھی نہیں دی گئی، یہ صورت حال دیکھ کر میرے بچوں سمیت خاندان میں کوئی ڈاکٹر بننے کو تیار نہیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ سسٹم ایسے ہی چل رہا ہے ایسے ہی چلتا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…