جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری،لاہورمیں بھارتی ہائی کمشنر زہر اگلتے رہے

datetime 11  اگست‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک) پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان نے کہا ہے کہ کشمیر کے متنازعہ علاقے سے گزارنے جانے پر پاک چین اکنامک کوریڈور کے منصوبے پر صرف بھارتی حکومت ہی نہیں وہاں کی عوام کو بھی تحفظات ہیں ،پاک بھارت تعلقات میں سب سے زیادہ بنیادی مسئلہ اعتماد کی کمی ہے ،مسئلہ کشمیر کا حل اس لیے جلد ممکن نہیں کیونکہ پورے بھارت کی رائے میں پاکستان اس پر ناجائز طورپر قابض ہے ، بلوچستان اور کر اچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی مداخلت محض ایک پروپیگنڈا ہے اس کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پلڈاٹ کے زیر اہتما م”پا کستان اور بھارت کے مابین گورننس اور ترقی کے عمل کو جاننے کے باہمی مواقع“ کے موضوع پر منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب میں پلڈاٹ کے صدر احمد بلا ل محبوب، شاہد حامد، سابق سفیر شاہد ملک ،شمشاد احمد، معین الدین حیدر، مجیب الرحمن شامی ، ایس ایم ظفر،سجاد میر، عطاءالرحمن، الطاف قریشی سمیت بہت سے معروف دانشوروں اور صحافیوں نے شرکت کی۔ بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو غربت، ثقافت، تعلیم، صحت ، زراعت، سائنس کے شعبوں سمیت تمام شعبوں میں چیلنجز درپیش ہیں ۔ان دونوں ملکوں کے پاس ان تمام شعبہ جا ت میں تعاون کرنے کے برابر مواقع بھی موجود ہیں ۔ پاک بھار ت کے مابین جس طرح کے تعلقات چل رہے ہیں یہ دنیا سے الگ تھلگ نہیں ہیں ۔ پو ری دنیا میں اس طرح ہو تا ہے کہ کسی ملک سے آپ کا تعلق کسی طرح کا ہے تو دوسرے سے کچھ اور طرح کا ہوتا ہے ۔ تمام ممالک سے تعلقات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ پاکستان اور بھارت کے ما بین بہتر تعلقات کیلئے مختلف قسم کے بے شمارمعاہدے ہو چکے ہیں لیکن ہما رے درمیان سب سے زیادہ بنیادی مسئلہ اعتماد کی کمی ہے اور وہ یکطرفہ نہیں ہے بلکہ دونوں طرف سے ہی اعتماد کی کمی ہے ۔جب تک اعتماد کی کمی کی وجوہات کا خاتمہ نہیں کیا جائے گاتب تک ان معاہدوں پر موثر طورپر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا ۔اس لیے دو طرفہ اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تاثر ہے کہ یہا ں کا میڈیا بھارت کے حوالے سے بہت منفی ہے اور بھارت میں یہ تاثر کہیں زیادہ ہے کہ پاکستان کا میڈیا بھارت کے حوالے سے منفی جذبات بھڑکا تا ہے ۔ یہا ں دہشت گردی کے حوالے سے ہم پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں ۔ یہاں بیسیوں مرتبہ بلوچستان اور کر اچی میں تخریب کا ری کے واقعات کا ذمہ دار بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کو ٹھہرا یا گیا جو کہ محض ایک پروپیگنڈا ہے ، اس کے کسی کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پرسیز فائرمعاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات بھی بھارت پر لگائے جاتے ہیں کہ بھارت ہمیشہ پہل کرتا ہے لیکن بالکل اسی طرح کے خیالات بھارت میں پائے جا تے ہیں کہ اس معاملے میں پاکستان پہل کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھار ت کو پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کے منصوبے پر کسی قسم کا کوئی اختلا ف نہیں ہے کیونکہ ہمار اہمسایہ ملک مضبوط ہوگا تو ہم مضبوط ہونگے لیکن اس منصوبے میں بھارت کی حکومت تو کیا سول سوسائٹی کو بھی صرف اس بات پر تحفظات ہیں کہ اسے کشمیر کے متنازعہ علاقے سے گزارا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ او رکوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اس لیے جلد ممکن نہیں کیونکہ پورے بھارت کی رائے میں پاکستان اس پر ناجائز طورپر قابض ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…