اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

صنعت کار اور تاجر عام شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کیلئے حکومت کا ساتھ دیں،وزیراعظم

datetime 2  فروری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے صنعتوں کے فروغ اور برآمدات بڑھانے کے لیے طویل المدت پالیسی پر عملدرآمد کر رہی ہے،کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت انڈسٹری نے ریکارڈ منافع کمایا جس کے ثمرات مزدور طبقے کو ملنے چاہئیں،میں ان صنعتکاروں اور تاجروں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری استدعا پر ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں

جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں جن کا پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں اشتراک سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، ملک کی ترقی کی خاطرحکومتی پالیسیوں کے عملدرامد میں پورا ساتھ دیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان سے بدھ کو معروف صنعتکاروں اور تاجروں کے وفد نے ملاقات کی جس میں حکومت اور صنعتکاروں کا کم سے کم ماہانہ اجرت بڑھانے پر اتفاق کیاگیا۔صنعتوں کے فروغ کے لیے طویل المدت پالیسیوں کے تسلسل پر زوردیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عالمی منڈی میں مہنگائی اور اس کی وجہ سے عوام پر بوجھ کا احساس رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکار اور بزنس مین عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر چلیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت میں آنے سے پہلے ہی پارٹی منشور میں آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کی برآمدات کی پالیسی شامل کی تھی جس کے ثمرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملک کی دس بڑی کمپنیوں نے پچھلے سال 929 ارب روپے منافع کمایا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے سرمایہ کاری اور کاروبار کے فروغ کے لیے تاریخی اقدامات کیے جو پہلے کسی حکومت نے نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات21 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچیں اور اگلے سال 26ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا موٹر سائیکل بنانے والا ملک بن چکا ہے، ٹریکٹرز کی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں 90فیصد پارٹس مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ دفاعی پیداوار اور انجینیرنگ کے شعبوں پر توجہ دی جائے۔ اس موقع پر موجود آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں جن کا پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں اشتراک سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کی خاطرحکومتی پالیسیوں کے عملدرامد میں پورا ساتھ دیں گے۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صنعتوں کے فروغ اور برآمدات بڑھانے کے لیے طویل المدت پالیسی پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت انڈسٹری نے

ریکارڈ منافع کمایا جس کے ثمرات مزدور طبقے کو ملنے چاہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ صنعتکاروں اور تاجروں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری استدعا پر ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین دورے سے پہلے بزنس کمیونٹی سے مشاورت ضروری تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستانی اور چینی صنعتکاروں کے مابین

روابط بڑھانے اور مشترکہ بزنس منصوبے (Joint Ventures) قائم کرنے پر بات کرے گی۔ حکومت چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروبار کے فروغ پر توجہ دے رہی ہے جس سے متوسط اور غریب طبقے کے معاشی حالات میں بہتری آئے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ برآمدات میں اضافہ کے لیے آئی ٹی، زراعت، لائیوسٹاک،

مشینری، ٹیکسٹائل سیکٹرز میں بے تحاشہ مواقع موجود ہیں۔ ملاقات میں صنعتکاروں نے حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی مکمل تائید کی اور منافع میں اضافہ کے ثمرات کو نچھلے طبقے تک منتقل کرنے کی حمایت کی۔صنعتکاروں نے برآمدات بڑھانے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے فروغ، ٹیکس نظام میں بہتری اور دورہ چین

کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔ملاقات میں معروف صنعتکار ثاقب شیرازی (ہونڈا اٹلس)، علی اصغر جمالی (انڈس موٹرز)، غیاث الدین خان (اینگرو)، سکندر مصطفٰی (ملت ٹریکٹر)، حامد زمان (سیفام) شاہد عبداللہ (سیفائر)، خرم مختار (پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسیئشن)، زاہد بشیر (گل احمد)، اعظم فاروق (چراٹ

سیمنٹ)، خلیل ستار (K&N)، عبد الرحیم اور گوہر اعجاز (APTMA) شامل ہوئے۔وفاقی وزراء شوکت ترین، اسد عمر، حماد اظہر، مخدوم خسرو بختیار، فواد چوہدری، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر مملکت فرخ حبیب، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور سینئر افسران بھی موجودتھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…