اسلام آباد(آن لائن )تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کی طرف سے ملک کے معاشی حالات پر حقائق نامہ جاری کیا گیاہے۔ حقائق نامہ کے مطابق ملک میں مانگ اور پیداوار بڑھانے کیلئے لیکویڈیٹی کا ٹیکہ لگانے کے حکومتی عمل کو سراہا گیاہے نیز حقائق نامہ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے کچھ اہم اقدام اٹھانے کی وجہ سے ملک کے اندر معاشی سرگرمیاں بڑھانے میں مدد
ملی ہے ۔اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے کئی ذرائع سے رعائتی کریڈیٹ دیا ہے خاص طور پر ٹیرف وغیرہ جس کی وجہ سے ملک کے اندر پیداوار بڑھی ہے اس کے علاوہ لاک ڈائون کے دوران جب پروڈکشن سست روی کا شکار تھی اس دوران ملازمتیں بچانے میں بھی مدد ملی ۔ آئی پی آر کے حقائق نامہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک کے اندر اہم معاشی اشاریوں اور سرگرمیوں کا کریڈیٹ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی جاتا ہے جو 2020سے اپنی پیداوار میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ احساس پروگرام کے تحت ایمرجنسی کیش کی منتقلی نے بھی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ آئی پی آر کے حقا ئق نامہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ حوصلہ افزائی کہ بیرون ملک کام کرنیو الے پاکستانی بینکوں کے ذریعے رقوم بھیجیںکے بھی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے کرنٹ اکائونٹ بیلنس میں بہتری آئی ہے ۔ بیرون ملک کام کرنیو الے پاکستانیوں کیطرف سے مالی سال 2018میں بھیجی گئیں 19.9ارب ڈالر کی رقوم مالی سال 2021میں 29.3ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔اس کے علاوہ مالی سال 2022 کے شروع میں ان رقوم میں 11فیصد اضافہ ہو ا ۔آئی پی آر کے حقائق نامہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پبلک انویسٹمنٹ کے
شعبے میں حکومت کی کئی شعبوں میں نمایا ں کار کردگی رہی ہے جس کی وجہ سے معاشی ترقی اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد ملی ہے ۔ ملک کی اندر تمام معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اہے ۔حکومتی اعدادو شمار کے مطابق مالی سال2021میںزرعی شعبے میں 3.2فیصد ،صنعتی شعبے میں8.9فیصد اور سروسز میں 4.92
فیصد اضافہ ہو اہے ۔ مالی سال 2021میں جی ڈی پی کا حجم 55488ارب روپے تھا اب تمام اشاریے بتا رہے ہیں کہ اس میں اضافہ جاری ہے۔ وزارت خزانہ کے ا عدادو شمار کے مطابق مالی سال 2021-22میں 22.8ملین ایکٹر پر گندم کی فصل بیجی گئی ہے لہذا حکومت کو امید ہے کہ امسال گندم کی پیداوار کا ہدف 28.9ملین ٹن حاصل کر لیا جائے گا اس کے علاوہ ان پٹ سپلائی اچھی
رہی ہے ۔اچھی زراعت کی وجہ سے ملک کے اندر ٹریکٹروں کی فروخت میں 21فیصد اور کھاد کی پیداوار اور فروخت میں بھی اضافہ ہو اہے ۔ آئی پی آر کے حقائق نامہ کے مطابق بڑی صنعتی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو ا ہے اس کے علاوہ تعمیراتی سرگرمیوں نے بھی ملک کے اندر معاشی سرگرمیاں متحرک کرنے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ آئی پی آر کے حقائق نامہ کے آخر میں ان خدشات کا اظہار بھی کیا
گیا ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تواس کے اثر ات پاکستان پر بھی پڑیگے ۔ خاص طور پر توانائی اور ان شعبوں پر جن میں درآمد شدہ اشیاء استعمال ہو تی ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔



















































