جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے فوجداری قانون میں ترامیم مسترد کردیں

datetime 27  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے فوجداری قانون میں ترامیم مسترد کردیں اور کہا کہ وزارت قانون و انصاف نیاسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر فوجداری ترامیم پیش کیں، ایسی ترامیم سے نظام مزید بوسیدہ ہوجائیگا۔سپریم کورٹ بارکی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ وزارت قانون و انصاف نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر فوجداری ترامیم پیش کیں،

ایسی فوجداری ترامیم سے موجودہ نظام مزید بوسیدہ ہو جائیگا، وزیر قانون نے ایسی فوجداری ترامیم کر کے اپنی نا اہلی ثابت کی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ وزارت قانون کو اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنا چاہیے تھی، وزارت قانون کی ترامیم محض نظر کا دھوکہ ہیں، فوجداری قوانین کی ترامیم تجویز کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی سے بھی مشاور ت نہیں کی گئی جو قابل مذمت ہے۔ترمیم کے مطابق ملزمان کے معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ میں ماہر نفسیات شامل ہوں گے، ایس ایچ او کے لیے گریجویشن کی ڈگری لازمی ہو گی اور جہاں مقدمات کا بوجھ زیادہ ہو گا وہاں ایس ایچ او ، اے ایس پی رینک کا ہو گا۔مجوزہ فوجداری ترمیمی قوانین کے مطابق مفرور ملزمان کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بلاک کر دیے جائیں گے جبکہ جلسے جلوسوں میں اسلحہ لے کر جانے کی اجازت نہیں ہو گی، دفعہ 161 کے تحت ہونے والے بیانات کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جائے گی، پراسیکیوٹر تفتیش سے مطمئن نہ ہو تو مزید یا ازسرنو تحقیقات کا کہہ سکے گا۔ ترامیم کے مطابق فوجداری مقدمات کا ٹرائل 9 ماہ میں ہو گا، ہر ماہ ہائیکورٹ کو پیشرفت رپورٹ جمع کرانی ہو گی، غیر سنجیدہ مقدمہ بازی پر سیشن کورٹ 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کر سکے گی اور 9 ماہ میں ٹرائل مکمل نہ ہونے پر ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کو وضاحت دینے کی پابندی ہو گی، ٹرائل کورٹ کی وضاحت قابل قبول ہوئی تو مزید وقت دیا جائے گا۔

بل میں یہ بات بھی شامل کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ میں گواہان کے بیانات کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی، گواہ بیان کے ٹرانسکرپٹ سے اختلاف کرے تو ریکارڈنگ سے استفادہ کیا جائے گا، گواہ عدالت نہ آ پائے تو ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کروا سکیں گے جبکہ بیرون ملک مقیم گواہان بھی مجاز افسر کی موجودگی میں بیان ریکارڈ کروا سکے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…