جمعہ‬‮ ، 15 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہائی کورٹ کوئی غلط کام کرے تو پرچہ کرائیںخوشی ہوگی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

datetime 10  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ای الیون جھگیوں سے متعلق سی ڈی اے کی کارروائی کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ عدالت کا کام ہے کمزور کی حفاظت کرنا، قانون سب پر یکساں لاگو ہو گا، باتیں سب بڑی بڑی کرتے ہیں لیکن لگتا ہے وفاقی اور سی ڈی اے بے بس ہے ،قانون پر عمل درآمد نہ ہوا تو چیئرمین سی ڈی اے اور

ممبران کے خلاف کرمنل پروسیڈنگ شروع کرائیں گے ۔ ہائی کورٹ کوئی غط کام کرتے تو پرچہ کرائیں خوشی ہوگی ۔عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کو آج منگل کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔سماعت کے آغاز پر سی ڈی اے وکیل حافظ عرفات نے عدالت کو بتایا کہ ای الیون میں این ایل سی بلاکس کی غیر قانونی فیکٹری بند کرادی ۔ یہ طاقتور لوگ ہیں بغیر این او سی انھوں نے فیکٹری لگائی تھی این ایل سی کی بلاک فیکٹری کو نوٹس کیا تھا فیکٹری بند کر دی گئی ہے ،این ایل سی حکام فیکٹری کے میٹریل مشینری کو بھی وہاں سے ہٹا رہے ہیں، عدالت نے حکم دیا کہ جھگیوں والوں کی خواہش کے مطابق سردیوں میں جگہ خالی نا کرائی جائے ،ماسٹر پلان کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے آج منگل کو عدالت کو بتائیں کم آمدنی والوں کے لئے کیا اسکیم لائی ہے ،کچی آبادی والوں کا کیا کوئی حق نہیں؟ کیا آپ نے ان کے لیے کوئی سکیم بنائی ہے ،اس موقع پر عدالت نے سی ڈی اے وکیل سے مکالمہ کیا کہ اس شہر میں لاقانونیت ہے آپ اس شہر کو ایلیٹس کے لیے بنا رہے ہیں؟سی ڈے اے خود سی ڈی اے آرڈیننس کی خلاف ورزی کر رہا ہے ،سی ڈی اے اپنے ہی قانون پر عمل درآمد نہیں کر رہی ہے ہم نے بار بار فیصلوں میں نشاندھی بھی کی اس کورٹ کے فیصلوں کی بھی آپ تضحیک کر رہے ہیں آپ عوام کی خدمت کے لیے ہیں، ایلیٹس کی خدمت کے لیے نہیں ہیں عدالت یقینی بنائے گی اسلام آباد میں قانون کی عمل داری ہوا،ٓپ بڑے آدمی کو صرف نوٹس کرتے ہیں اور جھگیوں والوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ،میں تو کہتا ہوں ہائی کورٹ بھی کوئی غلط کام کرے تو ہائی کورٹ پر پرچہ کرائیں ، ہمیں خوشی ہو گی یہ واحد شہر ہے جس کو وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سپروائز کرتی ہے اس موقع پر عدالت نے سی ڈی اے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ کو تو اپنے قوانین کا ہی نہیں پتہ تھا بنی گالہ فیصلے میں ہم نے آپ کو بتایا قانون کیا ہے، یہ شہر بڑے آدمی کے لیے ڈویلپ ہو رہا ہے ،اس سے بڑا المیہ ریاست کے لیے کیا ہو سکتا ہے سی ڈی اے میں کسی نے ماسٹر پلان کا لٹریچر نہیں پڑھا جس پر سی ڈی اے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کوئی شک نہیں اس عدالت نے سی ڈی اے اور شہر کی بہتری کے لیے بڑے فیصلے دئیے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ ریاست کا مائنڈ سیٹ عوام کی خدمت کرنا ہی نہیں جس پر سی ڈی اے وکیل حافظ عرفات نے عدالت کو بتایا کہ آپ کی عدالت کے فیصلوں کے بعد ادارے میں بہت بہتری آئی ہے ۔ جس پر عدالت نے کہا کہ اس عدالت کا کام ہے کمزور کی حفاظت کریں قانون سب پر یکساں لاگو ہو گا وگرنا اس آئینی عدالت کی Justification ختم ہو جاتی ہے باتیں سب بڑی بڑی کرتے ہیں لیکن لگتا ہے سی ڈی اے بھی بے بس ہے وفاقی حکومت بھی بے بس ہے ،قانون پر عمل درآمد نا ہوا تو چیئرمین سی ڈی اے اور ممبران کے خلاف کرمنل پروسیڈنگ شروع کرائیں گے ۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…