جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

امریکی عدالت نے گرفتار روسی طالبان کو مجرم قرار دے دیا

datetime 8  اگست‬‮  2015 |

ورجینیا (نیوز ڈیسک)امریکی ریاست ورجینیا میں وفاقی عدالت نے سویت روس کے ایک سابق فوجی کمانڈر کو سنہ 2009 میں امریکی فورسز پر ہونے والے طالبان حملے کی سربراہی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ایرک حمیدالین جو کہ ایک نو مسلم ہیں انھیں 15 جرائم کا مرتکب پایا گیا ہے جن میں دہشت گردوں کو مادی تعاون فراہم کرنا، امریکی فوجی طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش اور عام تباہی کے ایک ہتھیار کے استعمال کی سازش بھی شامل ہے۔ماہرین کے مطابق ان میں سے بعض الزمات کی سزا یقینی طور پر عمر قید ہے۔خبررساں ادارے اے پی کے مطابق حمیدالین کو جب 15 جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تو ان کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔یہ فیصلہ آٹھ گھنٹے کے غور و خوض اور پانچ دنوں تک شواہد پیش کیے جانے کے بعد دیا گیا ہے۔وکلا کا کہنا ہے کہ افغانستان کے میدانِ جنگ میں پکڑے جانے والے کسی شخص پر وفاقی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے امریکہ بھیجنا غیر معمولی بات ہے۔وکیل استغاثہ نے دلیل دیتے ہوئے یہ کہا کہ وفاقی قانون امریکی فوجیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے چاہے وہ کہیں بھی ہو،وکیل دفاع نے کہا کہ حمیدالین جنگی قیدی ہیں اور ان پر کسی شہری عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ لیکن انھیں اس معاملے پر ناکامی کا سامنا رہا۔وکیل دفاع پال گل نے جمعے کو اپنے اختتامیہ بیان میں کہا: ’یہ جنگ ہے۔۔۔ اس کے بارے میں سب باتیں کرتے ہیں اور یہی سب نے سن رکھا ہے۔ اس طرح کے تنازعات اس عدالت میں نہ آتے ہیں نہ آنے چاہیے‘۔وکیل استغاثہ نے دلیل دیتے ہوئے یہ کہا کہ وفاقی قانون امریکی فوجیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے چاہے وہ کہیں بھی ہو۔نائب امریکی اٹارنی مائیکل گل نے کہا کہ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ مجرم نے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔55 سالہ حمیدالین نے عدالت میں گواہی نہیں دی لیکن خفیہ طور پر ریکارڈ کیے جانے والے ایک انٹرویو میں انھوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی بات کہی لیکن گولی چلانے سے انکار کیا۔انھوں نے جانچ کرنے والوں کو بتایا کہ وہ ’خدا کا کام کر رہے تھے۔‘اوباما انتظامیہ اس معاملے کو دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے،خیال رہے کہ جج نے ان کے خلاف ’دہشت گرد لفظ کے استعمال اور بحث کے دوران اسامہ بن لادن کے ذکر سے منع کر دیا تھا۔امریکی حکام کے مطابق حمیدالین ایک روسی فوجی ہیں جو افغانستان میں سویت روس کی جنگ کے بعد وہیں رہ گئے تھے اور طالبان کے اتحادی حقانی نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔مبینہ طور پر ان پر خوست صوبے میں افغانستان کی سرحدی پولیس پر سنہ 2009 میں تین حملوں کی سربراہی کا الزام ہے۔ انھیں ان حملوں کا ’ماسٹر مائنڈ ‘ کہا گیا ہے۔پال گل نے کہا کہ حمیدالین نے صرف افغان پولیس کو نشانہ بنایاتھا نہ کہ امریکی ہیلی کاپٹر کو اور اس بات پر بہت شبہہ ہے کہ انھوں نے بعد میں جنگ میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے والے فوجیوں پر اے کے 47 سے گولیاں چلائی تھیں۔بہر حال بعض امریکی فوجیوں نے کہا کہ انھوں نے حمیدالین کو گولی چلاتے دیکھا جبکہ بعض نے اس کے برعکس کہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…