ورجینیا (نیوز ڈیسک)امریکی ریاست ورجینیا میں وفاقی عدالت نے سویت روس کے ایک سابق فوجی کمانڈر کو سنہ 2009 میں امریکی فورسز پر ہونے والے طالبان حملے کی سربراہی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ایرک حمیدالین جو کہ ایک نو مسلم ہیں انھیں 15 جرائم کا مرتکب پایا گیا ہے جن میں دہشت گردوں کو مادی تعاون فراہم کرنا، امریکی فوجی طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش اور عام تباہی کے ایک ہتھیار کے استعمال کی سازش بھی شامل ہے۔ماہرین کے مطابق ان میں سے بعض الزمات کی سزا یقینی طور پر عمر قید ہے۔خبررساں ادارے اے پی کے مطابق حمیدالین کو جب 15 جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تو ان کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔یہ فیصلہ آٹھ گھنٹے کے غور و خوض اور پانچ دنوں تک شواہد پیش کیے جانے کے بعد دیا گیا ہے۔وکلا کا کہنا ہے کہ افغانستان کے میدانِ جنگ میں پکڑے جانے والے کسی شخص پر وفاقی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے امریکہ بھیجنا غیر معمولی بات ہے۔وکیل استغاثہ نے دلیل دیتے ہوئے یہ کہا کہ وفاقی قانون امریکی فوجیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے چاہے وہ کہیں بھی ہو،وکیل دفاع نے کہا کہ حمیدالین جنگی قیدی ہیں اور ان پر کسی شہری عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ لیکن انھیں اس معاملے پر ناکامی کا سامنا رہا۔وکیل دفاع پال گل نے جمعے کو اپنے اختتامیہ بیان میں کہا: ’یہ جنگ ہے۔۔۔ اس کے بارے میں سب باتیں کرتے ہیں اور یہی سب نے سن رکھا ہے۔ اس طرح کے تنازعات اس عدالت میں نہ آتے ہیں نہ آنے چاہیے‘۔وکیل استغاثہ نے دلیل دیتے ہوئے یہ کہا کہ وفاقی قانون امریکی فوجیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے چاہے وہ کہیں بھی ہو۔نائب امریکی اٹارنی مائیکل گل نے کہا کہ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ مجرم نے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔55 سالہ حمیدالین نے عدالت میں گواہی نہیں دی لیکن خفیہ طور پر ریکارڈ کیے جانے والے ایک انٹرویو میں انھوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی بات کہی لیکن گولی چلانے سے انکار کیا۔انھوں نے جانچ کرنے والوں کو بتایا کہ وہ ’خدا کا کام کر رہے تھے۔‘اوباما انتظامیہ اس معاملے کو دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے،خیال رہے کہ جج نے ان کے خلاف ’دہشت گرد لفظ کے استعمال اور بحث کے دوران اسامہ بن لادن کے ذکر سے منع کر دیا تھا۔امریکی حکام کے مطابق حمیدالین ایک روسی فوجی ہیں جو افغانستان میں سویت روس کی جنگ کے بعد وہیں رہ گئے تھے اور طالبان کے اتحادی حقانی نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔مبینہ طور پر ان پر خوست صوبے میں افغانستان کی سرحدی پولیس پر سنہ 2009 میں تین حملوں کی سربراہی کا الزام ہے۔ انھیں ان حملوں کا ’ماسٹر مائنڈ ‘ کہا گیا ہے۔پال گل نے کہا کہ حمیدالین نے صرف افغان پولیس کو نشانہ بنایاتھا نہ کہ امریکی ہیلی کاپٹر کو اور اس بات پر بہت شبہہ ہے کہ انھوں نے بعد میں جنگ میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے والے فوجیوں پر اے کے 47 سے گولیاں چلائی تھیں۔بہر حال بعض امریکی فوجیوں نے کہا کہ انھوں نے حمیدالین کو گولی چلاتے دیکھا جبکہ بعض نے اس کے برعکس کہا۔
امریکی عدالت نے گرفتار روسی طالبان کو مجرم قرار دے دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امریکی ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
وزیراعظم شہباز شریف کے آموں کے تحفے پر ہنگری کے وزیراعظم کا دلچسپ پیغام
-
کون سا پاکستانی شہری اب ملک میں داخل نہیں ہو سکے گا؟ ہوائی اڈوں کو ہدایات جاری
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
لاہور میں فیکٹری مالک کو انسپکشن کیلئے آنے اسسٹنٹ کمشنر سے تعارف پوچھنا مہنگا پڑ گیا
-
وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان، نئے نام زیر غور
-
750 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے خوشخبری
-
سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی،فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
سعودی عرب کا نیا “پیکیج ویزا” متعارف، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری مستفید ہوں گے
-
پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)
-
عمران ہاشمی سے ملائی جانے والی سحر ہاشمی کا رد عمل سامنے آگیا
-
5 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازمین کے لئے اہم خبر آگئی
-
دنیا کے امیر ترین ممالک کون سے ہیں؟ نئی عالمی رپورٹ سامنے آگئی



















































