بدھ‬‮ ، 13 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکی عدالت نے گرفتار روسی طالبان کو مجرم قرار دے دیا

datetime 8  اگست‬‮  2015 |

ورجینیا (نیوز ڈیسک)امریکی ریاست ورجینیا میں وفاقی عدالت نے سویت روس کے ایک سابق فوجی کمانڈر کو سنہ 2009 میں امریکی فورسز پر ہونے والے طالبان حملے کی سربراہی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ایرک حمیدالین جو کہ ایک نو مسلم ہیں انھیں 15 جرائم کا مرتکب پایا گیا ہے جن میں دہشت گردوں کو مادی تعاون فراہم کرنا، امریکی فوجی طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش اور عام تباہی کے ایک ہتھیار کے استعمال کی سازش بھی شامل ہے۔ماہرین کے مطابق ان میں سے بعض الزمات کی سزا یقینی طور پر عمر قید ہے۔خبررساں ادارے اے پی کے مطابق حمیدالین کو جب 15 جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تو ان کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔یہ فیصلہ آٹھ گھنٹے کے غور و خوض اور پانچ دنوں تک شواہد پیش کیے جانے کے بعد دیا گیا ہے۔وکلا کا کہنا ہے کہ افغانستان کے میدانِ جنگ میں پکڑے جانے والے کسی شخص پر وفاقی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے امریکہ بھیجنا غیر معمولی بات ہے۔وکیل استغاثہ نے دلیل دیتے ہوئے یہ کہا کہ وفاقی قانون امریکی فوجیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے چاہے وہ کہیں بھی ہو،وکیل دفاع نے کہا کہ حمیدالین جنگی قیدی ہیں اور ان پر کسی شہری عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ لیکن انھیں اس معاملے پر ناکامی کا سامنا رہا۔وکیل دفاع پال گل نے جمعے کو اپنے اختتامیہ بیان میں کہا: ’یہ جنگ ہے۔۔۔ اس کے بارے میں سب باتیں کرتے ہیں اور یہی سب نے سن رکھا ہے۔ اس طرح کے تنازعات اس عدالت میں نہ آتے ہیں نہ آنے چاہیے‘۔وکیل استغاثہ نے دلیل دیتے ہوئے یہ کہا کہ وفاقی قانون امریکی فوجیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے چاہے وہ کہیں بھی ہو۔نائب امریکی اٹارنی مائیکل گل نے کہا کہ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ مجرم نے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔55 سالہ حمیدالین نے عدالت میں گواہی نہیں دی لیکن خفیہ طور پر ریکارڈ کیے جانے والے ایک انٹرویو میں انھوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی بات کہی لیکن گولی چلانے سے انکار کیا۔انھوں نے جانچ کرنے والوں کو بتایا کہ وہ ’خدا کا کام کر رہے تھے۔‘اوباما انتظامیہ اس معاملے کو دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے،خیال رہے کہ جج نے ان کے خلاف ’دہشت گرد لفظ کے استعمال اور بحث کے دوران اسامہ بن لادن کے ذکر سے منع کر دیا تھا۔امریکی حکام کے مطابق حمیدالین ایک روسی فوجی ہیں جو افغانستان میں سویت روس کی جنگ کے بعد وہیں رہ گئے تھے اور طالبان کے اتحادی حقانی نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔مبینہ طور پر ان پر خوست صوبے میں افغانستان کی سرحدی پولیس پر سنہ 2009 میں تین حملوں کی سربراہی کا الزام ہے۔ انھیں ان حملوں کا ’ماسٹر مائنڈ ‘ کہا گیا ہے۔پال گل نے کہا کہ حمیدالین نے صرف افغان پولیس کو نشانہ بنایاتھا نہ کہ امریکی ہیلی کاپٹر کو اور اس بات پر بہت شبہہ ہے کہ انھوں نے بعد میں جنگ میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے والے فوجیوں پر اے کے 47 سے گولیاں چلائی تھیں۔بہر حال بعض امریکی فوجیوں نے کہا کہ انھوں نے حمیدالین کو گولی چلاتے دیکھا جبکہ بعض نے اس کے برعکس کہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



موسمی پرندے


’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…