پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

کراچی میں شدید سردی ، مختلف علاقوں6 افراد ٹھٹھر کر جاں بحق

datetime 18  دسمبر‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)شہر میں سائبرین ہوائیں فٹ پاتھی نشے کے عادی افراد کی موت بن گئیں مختلف علاقوں6 افراد سردی سے ٹھٹھر کر ہلاک ہوگئے تفصیلات کے مطابق کراچی میں سائبرین ہوائیں داخل ہو گئیں جس کے سبب سردی کی شدت بھی بڑھ گئی، شہر میں 22 کلو میٹر فی

گھنٹہ کی رفتار سے شمال مشرقی ہوائیں چل رہی ہیں،محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تاہم بارش کا کوئی امکان نہیں اسردی کی لہر 21دسمبر تک جاری رہے گی سائبرین ہوائیں نشے کے عادی افراد کی موت بن گئی آج سب لسبیلہ سگنل کے قریب سردی سے ٹھٹھر کر 63 سالہ شخص محمد رشید ولد امجد ہلاک ہوگیا جسکیکی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے نعش کو سول ہسپتال منتقل کیاگیا ، آرٹلری میدان کے علاقے گورنر ہاوس کے قریب فٹ پاتھ سے ایک شخص کی لاش ملی، لیاری کے علاقے کلاکوٹ میں روڈ پر لاش کی اطلا ع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور 35سالہ شخص کی لاش کو اپنے تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے سول اسپتال پہنچایا ،پولیس کے مطابق متوفی نشے کاعادی ہے اور نشے کی زیادتی کے باعث ہلاک ہوا ہے۔عزیزآباد کے علاقے کریم آباد بلاک 3کے فٹ پاتھ پر لاش کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور موقع سے 55سالہ فاروق ولد محمد کی لاش ملی سائٹ اے کے علاقے میٹروویل میں فاروق اعظم مسجد کے قریب 65سالہ شخص کی نعش ملی کینٹ اسٹیشن کے قریب گیٹ وے ہوٹل سے ایک شخص کی دو سے تین روز پرانی لاش ملی ، جیسے پولیس نے ایمبولنس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا ، جہاں متوفی کی شناخت 39سالہ کامران ولد لقمان کے نام سے ہوئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…