جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

موٹاپے سے نجات دلانے والا جدید لباس تیار

datetime 6  اگست‬‮  2015 |

اوسلو(نیوز ڈیسک) روزمرہ کے معمولات اور بڑھتی مصروفیت نے انسان کو ورزش جیسی صحت مند سرگرمیوں سے دورکردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں موٹاپے کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن اب اس پریشانی کا حل بھی تلاش کرلیا گیا ہے کیونکہ امریکا میں ایک ایسا لباس تیار کیا گیا ہے جس کو زیب تن کرنے سے جسم میں موجود اضافی کیلوریز ختم ہوں گی اور آپ موٹاہے سے نجات حاصل کرکے اسمارٹ نظر آسکیں گے۔ناروے ٹیکنالوجی کمپنی نے ایک ایسی بنیان اورجوتے کا اندرونی تلا یا پتاوا تیارکیا ہے جوانسانی جسم کے درجہ حرارت کو کم کردے گا اور دوسرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں انسانی جسم کے میٹا بولک سسٹم کو ہیک کر لیں گی اور کیلوریز کے جلنے کا عمل تیز ہوجائے گا۔ کمپنی نے اس لباس کو ”تھن آئس“ کا نام دیا ہے جسے پہننے کے بعد چند سیکنڈ تک درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے ٹھنڈک محسوس ہوگی لیکن اس کے بعد جسم کا درجہ حرارت معمول پر آجائے گا اور کیلوریز کے جلنے کا عمل شروع ہوجائے گا تاہم اگر کوئی شخص زیادہ دیر تک ٹھنڈک محسوس کرے تو اسے اسمارٹ فون میں دیئے گئے ایپ سے بھی ایڈجسٹ کرسکتا ہے۔لباس تیار کرنے والی کمنپی کے اہم رکن کا کہنا ہے کہ اس لباس کی مدد سے ایک دن میں 500 سے ایک ہزار تک کیلوریز کو جلایا جا سکتا ہے جب کہ اس بنیان یا جوتے کی قیمت صرف 99 ڈالرہے۔ کمپنی کے مطابق لباس میں ”پیلٹیر کولنگ چپس“ لگائی گئی ہیں جن میں گرمائش کوبڑے پیمانے پرارتکازکرنے والے ری اسپیٹر لگے ہوئے ہیں جب کہ اس میں کمپیکٹ کولنگ سسٹم لگا ہوا ہے جوجسم کے درجہ حرارت کو تیزی سے کم کرتا ہے، پیلٹیر چپس کو باآسانی دوبارہ ری چارج کیا جاسکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی 50 فیصد کیلوریز درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں استعمال ہوتی ہیں لہٰذا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ جسم کی فالتو توانائی کو خرچ کیا جاسکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ لباس کے ساتھ ایسا ایپ بھی تیار کیا گیا ہے کہ جو لباس پہننے والوں کو درجہ حرارت کنٹرول اورکیلوریز مانیٹرنگ کرنے میں مدد دیتا ہے جب کہ اس میں لگا ٹائمر لباس ضرورت کے مطبق ایکٹویٹ کرتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…