جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

چترال میں سیلاب سے30 افراد کی ہلاکت کی خبر درست نہیں، آئی ایس پی آر

datetime 25  جولائی  2015 |

چترال: سیلاب اور بارشوں کے باعث چترال میں مزید 19 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 25 ہوگئی جب کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ چترال میں سیلاب سے 30 افراد کی ہلاکت کی خبر درست نہیں ہے۔ چترال میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے جب کہ سیلابی ریلوں میں بہہ کر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 25 ہوگئی، چترال کے قصبے ملکوہ اور قطرو میں بارشوں اور سیلاب کے باعث سب سے زیادہ نقصان ہوا، ملکو کے 200 دیہات، رابطہ پل اور سڑکیں ریلے میں بہہ گئیں۔ مقامی پولیس کے مطابق گزشتہ روز کی بارشوں اور سیلاب سے اب تک 19 افرادکی ہلاکتیں ہوچکی ہیں جب کہ سہت سے11، اوتہول سے4، تھارگرام سے2 اور گرین لشٹ سے1 لاش ملی جب کہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب سے اب تک 11 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اورسی ون 30 طیارے کو بھی ریسکیو کے کاموں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے جب کہ ایف ڈبلواو کی مشینری کی مدد سے سڑکوں کو کھولنے کا کام آج سے شروع کردیا جائے گا۔دوسری جانب ڈی جی میٹ کا کہنا ہے کہ تبت میں ہوا کے اونچے دباؤ کی وجہ سے چترال کے شمال میں بارش کا سسٹم موجود رہے گا جس کے باعث چترال اور ملحقہ علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ اگلے7 روز تک جاری رہےگا۔ سیلاب کے باعث چترال کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ضلع بھر میں پیٹرول اور ڈیزل بھی نایاب ہوگیا اور فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 250 روپے تک پہنچ گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…