منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

پاکستان نہیں، افغانستان کی جانب سے دراندازی ہو رہی ہے، ڈی جی آئی ایس آئی نے افغان حکومت کے الزامات مسترد کردیے

datetime 16  جولائی  2021 |

راولپنڈی( آن لائن ) ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے افغانستان کی طرف سے پاکستان پر عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقت میں افغانستان کی طرف سے دراندازی ہورہی ہے ، پاکستا ن افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے ،

دہشت گردی کے تمام مراکز افغانستان میں موجود ہیں ،پاکستان پر دراندازی کے سارے الزا مات بے بنیاد ہیں، پاکستان افغانستان میں کسی دھڑے کی حمایت نہیں کررہا ۔ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انٹر سروسز انٹلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خوا ہشمند ہے افغانستان کی طرف سے پاکستان پر دراندازی کے الزامات بے بنیاد ہیں، حقیقت میں دراندازی افغانستان سے ہورہی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کہا کہ افغانستان میں کسی دھڑے کی حمایت نہیں کررہے، پاکستان علاقائی سیکیورٹی ، تجارت کے لیے اور خطے میں بڑے مقصد کے لیے کام کررہاہے۔دہشت گردی کے سارے مراکز افغانستان میں موجود ہیں، ہمارے جوانوں کو پاک افغان بارڈر پر نشانہ بنایاجارہاہے، پاکستان نے موقف واضح طور پر پیش کیا ہے، ایسے الزامات لگتے رہے تو حالا ت بہتر نہیں ہوسکتے ، پرامن اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان اور دیگر ممالک کے مفاد میں ہے۔ پاکستان چاہتاہے کہ افغانستان میں تمام گروپوں میں مذاکرات کے نتیجے میں امن قائم ہو ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…