جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

مولانافضل الرحمان کاعمران خان پر کاری وار

datetime 23  جولائی  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوگئے ہیں ، وقت آگیا وہ قوم سے معافی مانگیں۔ ایک بیان میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ثابت ہوگیا کہ عمران خان سیاسی طورپرنابالغ ہےں اور اب انہیں سیاست سے دستبردار ہو جانا چاہئے تاکہ غیر ضروری عنصرکاخاتمہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد اب دھرنے کے اصل محرکات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں اور پتہ لگانا چاہئے کہ لندن پلان کا ماسٹر مائنڈ کون تھا اور خان صاحب کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے سے پاکستان کی عالمی سطح پر تضحیک ہوئی، پارلیمان اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، فوج کو سیاسی معاملات میں ملوث کرنے کی کوشش سے قومی اور باعزت ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایاگیا۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب پاکستان کو عالمی ، داخلی سیاسی اور معاشی اعتبار سے ہونےوالے نقصانات کی ذمہ داری کس پر ڈالیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور ووٹرز کو بھی اپنی قیادت کا احتساب کرنا چاہے کہ انہوں نے کیوں قوم کا وقت ضائع کیا اور کمیشن میں اپنے الزامات کے حق میں ثبوت کیوں پیش نہیں کئے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنے شہید کارکنوں کے خاندانوں سے بھی معافی مانگنی چاہیے اور انکے نقصانات کا ازالہ کرنا چاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کا ایک اور ہتھیار ناکام ہوا اور آئندہ بھی انشااللہ آزاد میڈیا اور سرگرم جمہوریت کے ہوتے ہوے اس قسم کے ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہونگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…