بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

ڈاکٹرعطاالرحمن نے پاکستان میں کروناکی نئی قسم کی موجودگی کاامکان ظاہرکردیا

datetime 2  جولائی  2021 |

کراچی (این این آئی)کرونا ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں قوی امکان ہے کہ کرونا وائرس کا نیا ڈیلٹا ویرینٹ پہنچ چکا ہو ،تاہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔خصوصی گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بہت ممکن ہے کہ

یورپ سے کرونا کا نیا ڈیلٹا ویرینٹ پاکستان پہنچ چکا ہو۔ برطانیہ اور بھارت میں یہ ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کرونا وائرس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سب سے زیادہ مہلک قسم جلدی چھاجاتی ہے تاہم ابھی تک پاکستان میں الفا ویرینٹ رہا۔ڈاکٹرعطا الرحمن نے بتایا کہ کراچی یونیورسٹی میں کرونا وائرس کے ویرینٹ سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیلٹا ویرینٹ کے علاوہ ڈیلٹا پلس ،ایپسلون ویرینٹ سمیت کئی دیگر ویرینٹ سامنے آئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ابھی ڈیلٹا اور ڈیلٹا پلس ویرینٹ خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرعطا الرحمن نے کہاکہ کرونا ویکسین ایک حد تک ان ویرینٹ سے بچاتی ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ زیادہ بہتر ویکسین تیار کی جائے۔انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کرونا وائرس کی مزید لہر آسکتی ہے اور اس سے نبٹنا اہم ہوگا۔ حکومت روزانہ کی بنیاد پر کرونا کے پھیلائو کے عمل کی نگرانی کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…