جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

اسدعمر کے بھائی کی شریف برادران سے پہلی ملاقات کس نے کرائی ، محمد زبیرپارٹی میں جانے پر کیسے مجبور ہوگئے ؟حقیقت سامنے آگئی

datetime 23  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) مسلم لیگ ن کے رہنماءاوروزیرمملکت اور اسد عمر کے بھائی محمد زبیرنے انکشاف کیاہے کہ شہبازشریف سے ا±ن کی پہلی ملاقات میرے بھائی اسد عمر نے ہی کرائی تھی اور پھرشہبازشریف کے کہنے پر لیگی قیادت کو ایک پریزنٹیشن دی جس کے بعد مسلم لیگ ن سے تعلق جڑگیا، اس پریزنٹیشن سے نوازشریف اور دیگر رہنماءمطمئن ہوئے اور نوازشریف نے کہاکہ ’ویلکم ان پارٹی‘۔ شہبازشریف سے اکیلے میں بات کی کہ یہ پارٹی کیا توا±نہوں نے کہاکہ آپ نے اتنا کچھ کام کیاہے ، ملک اور قوم کی بھی کچھ خدمت کریں اور یوں وہ ہاں کہنے پر مجبور ہوگئے، دونوں بھائی اسدعمر اور محمد زبیرنجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگوکررہے تھے۔اس موقع پروزیرنجکاری محمد زبیرنے بتایاکہ ا±نہیں کسی نے سیاست میں شمولیت کی دعوت نہیں دی ، نوکری چھوڑنے کے بعد اپنا کاروبارشروع کیا، کبھی بھی مسلم لیگ ن یا شریف برادران سے نہیں ملاتھا، پہلی مرتبہ اسدعمر کیساتھ لندن میں شہبازشریف سے ملاقات ہوئی تھی ، دونوں بھائی بزنس اور نوکری کے سلسلے میں لندن میں تھے ، اسد عمر سے پوچھاکہ آج کیاکررہے ہوتو انہوں نے بتایاکہ شہبازشریف آیا ہواہے ، اس کیساتھ لنچ ہے ، دونوں ہی چلتے ہیں۔اسدعمر نے بتایاکہ یہ غالباً2004ئ کی بات ہے ، وہ پہلے ہی جانتے تھے ، جب کوئی عتاب میں آتاہے تو وہ اس سے زیادہ ملتے ہیں ، شہبازشریف کافون آیاتو بھائی کا بتایاتوانہوں نے بھی کہاکہ لے آئیں۔اس موقع پرمحمد زبیرنے بتایاکہ پھر شہباز شریف سے اپریل یامئی 2012ءمیں ملاقات ہوئی اور خیال کیا جارہاتھاکہ دسمبر جنوری میں الیکشن ہوتا، شہبازشریف نے پوچھاکہ ہماری میڈیا منیجمنٹ کیسی ہے ،آپ کو کیسا لگتا ہے؟ تو میں نے کہا کہ اگر آپ دوستانہ طریقے سے مجھ سے پوچھیں گے تو میرا خیال ہے کہ کوئی میڈیا مینجمنٹ نہیں ہے تو وہ کہتے آپ ایک پرپوزل کیوں نہیں بناتے تو میں سمجھا یہ میرے سے کمرشل پرپوزل کی بات کررہے ہیں تو میں نے بڑے شوق کے ساتھ محنت کے ساتھ ایک پروپوزل بنایا پھر میں نے ان کے سیکریٹری کو بتایا اورساڑھے سات بجے بریک فاسٹ میٹنگ کیلئے لاہوربلایا جہاں میں نے پریزنٹیشن دی توشہبازشریف بڑے خوش ہوئے۔ اس کے بعد پوچھاکہ 1بجے واپس آسکتے ہیں؟ میاں نوازشریف آئیں تو آپ آخر ان کو یہ پریزنٹیشن کریں، کچھ باتیں جو شہبازشریف نے کیں ، وہ بھی شامل کرلیں اور دوبارہ پہنچاتو چوہدری نثار اور میاں نواز شریف سے میری پہلی ملاقات تھی اوران کے سامنے پریزینٹیشن دی تو وہ بڑے خوش ہوئے اور پوچھاکہ کراچی سے آئے ہیں تو اثبات میں جواب دیا، پوچھاکہ کل تک رک سکتے ہیں تو اس بھی مثبت ہی جواب دیا ، اگلے دن رائیونڈمیں میٹنگ تھی ، وہاں پریزنٹیشن دی جہاں وہاں احسن اقبال ، اسحاق ڈار، سرتاج عزیزاور پرویزرشید سے بھی ملاقات ہوئی۔خوشی بھی ہوئی کہ رائیونڈ بھی دیکھ لیا، پریزنٹیشن کے خاتمے پر نوازشریف نے مجھے داد دی اور کہاکہ ’ویلکم ان پارٹی زبیرصاحب‘۔
وزیرنجکاری اور اسدعمر کے بھائی محمد زبیرنے بتایاکہ پارٹی کی بات سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ پارٹی کہاں سے آگئی ، اس کے بعد لنچ کے موقع پر شہبازشریف کو الگ لے کر گیا اور پوچھاکہ یہ پارٹی سے متعلق کب تبادلہ خیال ہواتو ا±نہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا سب کچھ دیا ہے آپ اتنے بڑے عہدوں پر رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے تو آپ ملک کی بھی خدمت کریں ،میں تو یہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ یہ کریں گے تو میں نے کہا کہ جی یہ بہت بڑا فیصلہ ہے تو مجھے ذرا تھوڑا سا سوچنے دو تو انہوںنے کہا ہاں کرلیں اور کہاکہ آپ میڈیا کمیٹی بنائیں ، جو بھی آپ کو چاہیے ہم دیں گے توحامی بھر لی۔اس موقع پراس وقت کے مسلم لیگ(ن) کے پارٹی سیکرٹری جنرل سرتاج عزیز کافون آیا کہ آپ کے بارے میں بتایاگیاہے ، ہماری کمیٹی مینی فیسٹوبناچکی ہے ، آپ آجائیں تو پندرہ بیس مینی فیسٹو کاپتہ چل گیاتو سمجھ آئی کہ اس میں ابھی بہت وقت ہے اورمیں نے اس منشورکمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جس کے سربراہ سرتاج عزیزاورسیکرٹری صدیق الفاروق تھے اورمیں نے اس اجلاس میں اسلام آباد کے مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں شرکت کی جہاں میری ملاقات اسحاق ڈار،احسن اقبال اوردیگرکئی اہم رہنماﺅں سے ہوئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…