جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

فیصل آباد میں سنگدل باپ نے3 سالہ بیٹی کو قتل کردیا، مارنے کی حیرت انگیز وجہ بتا دی

datetime 3  جون‬‮  2021 |

مکوآنہ (این این آئی)فیصل آباد باپ نے تین سالہ بیٹی کو زندہ نہر میں پھینک کر اغواکا ڈرامہ رچا دیا۔ جیو نیوز کے مطابق چک نمبر 30 کے رہائشی آصف جاوید نے اپنے بھائی ذوالفقار کے ذریعے پولیس کو درخواست دی کہ اس کی تین سالہ بیٹی کشف کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا ہے۔ شکایت پر تھانہ ساندل بار میں مقدمہ درج کرکے تلاش

شروع کی گئی جس کے دوران بچی کی لاش گوجرہ میں نہر سے مل گئی۔ ملزم آصف جاوید سے واقعے کے بارے میں تحقیقات کی گئیں تو اس نے انکشاف کیا کہ اس نے خود ہی اپنی بیٹی کو زندہ نہر میں پھینک کر اغواکا ڈرامہ رچایا تھا۔ ایس ایس پی آپریشنز محمد افضل کے مطابق ملزم نے پولیس کو دییگئے بیان میں بتایا کہ اس کی بیٹی رات کو شرارتیں کرتی تھی جس کی وجہ سے اس کی نیند خراب ہوتی تھی اسی بناپر اس نے اپنی بیٹی کو نہر میں پھینکا۔ پولیس کے مطابق ملزم کی دو بیٹیاں تھیں جن میں سے چھوٹی بیٹی ڈیڑھ سال کی ہے۔ دوسری جانب فیصل آباد میں پانی بھرے مضر صحت گوشت کی مہنگے داموں فروخت جاری بڑا گوشت 500سے لیکر 600 روپے کلو فروخت کر رہے ہیں اگر کو ئی ریٹ کے بارے بات کر ے تو دھکے دے کر دکان سے اتار دیا جاتا ھے جڑانوالہ روڈ جلوی مارکیٹ کے گردونواح میں قصابوں کی من مانیاں ر وزانہ کی بنیاد پر قصابوں کے ناپ تول کے پیمانوں اور گوشت کوچیک کیاجائے سماجی حلقے تفصیل کے مطابق فیصل آباد کے قصاب مبینہ طور پربلا خوف و خطرہ بیمار اور لاغر جانوروں کا پانی بھرا گوشت فروخت کر کے کھلم کھلا انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا گھناؤنا دھندہ کر رہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں اور بعض قصاب اپنے جانوروں کو ذبح کرنے کے لئے سلاٹر ہاؤس لے

جانا بھی گوارہ نہیں کرتے شہریوں نے بتایا کہ شہر کے ہر قصاب کا الگ ریٹ ہے اگر کوئی صارف مضر صحت گوشت مہنگے داموں فروخت کرنے پر احتجاج کرتا ہے تو قصاب اسے بے عزت کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے مضر صحت اور مہنگے داموں گوشت کی فروخت پر شہریوں نے متعدد بار اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا مگر

کسی بھی ذمہ دار کے کانوں پر جوں نہ رینگنا لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔پانی بھرے اور بیمار جانوروں کا گوشت کھانے سے سینکڑوں شہری پیٹ کی موذی امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں جبکہ قصابوں کے پھٹوں کے ارد گرد لوہے کی جالیاں نہ ہونے کی وجہ سے تمام دن مکھیاں گوشت پر بھن بھناتی رہتی ہیں اور ٹریفک کی وجہ سے اڑنے والی زہریلی گرد بھی گوشت سے چمٹی رہتی ہے۔ جو قصاب جانوروں کو سلاٹر ہاؤس لیجانے سے گریز نہیں کرتے

ان کے مارکیٹ میں فروخت کے لئے لائے جانے والے گوشت کو چیک کرنا ویٹرنری ڈاکٹر اور تحصیل انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے روزانہ کی بنیاد پر شہر میں قصابوں کے پھٹوں اور فروخت کے لئے رکھے گئے گوشت اور ناپ تول کے پیمانوں کو چیک کرنے سے شہری موذی امراض اور مہنگے داموں گوشت خرید کرنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔شہریوں نے ڈ پٹی کمشنر فیصل آباد سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…