ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے خلاف ضابطہ فنڈز کے استعمال کا انکشاف فورنزک آڈٹ میں کچا چٹھا کھل کر سامنے آگیا

datetime 8  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں کے قیام سے اب تک پہلی دفعہ فورنزک آڈٹ مکمل کرلیا گیا ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی ہدایت پر 2015 سے 2020 تک مکمل فرانزک آڈٹ کرایا گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی چیف جسٹس نے اپنے ادارے کا آڈٹ خود کروایا،اعلی عدلیہ میں خود احتسابی سے متعلق فرانزک رپورٹ ہائی کورٹ نے پبلک کردی ۔

آڈٹ حکام کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات میں مجموعی شفافیت پائی گئی،سابق چیف جسٹس انور کاسی کی آئی ایٹ رہائش گاہ پر 18 لاکھ سے زائد خلاف ضابطہ فنڈز کے استعمال کی نشاندہی۔رپورٹ کے مطابق سابق چیف جسٹس کی جانب سے ججز ریسٹ ہاؤس کی ہائیرنگ میں خلاف ضابطہ 89 لاکھ سے زائد رقم استعمال کی نشاندہی ۔ رپورٹ کے مطابق ڈیپارٹمنٹل کمیٹی کو سابق چیف کی جانب سے فنڈرز استعمال سے متعلق مزید شواہد کا انتظار ہے،سیشن جج نے کیش شورٹیز کے معاملے میں 17 ملین سے زائد غبن کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس کے حکم پر ایف آئی اے نے انکوائری کی اور مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا ،شفافیت اور مالی قوانین پر بہتر عملدرآمد کے لیے ضلعی عدالتوں میں آڈٹ آفیسر تعینات کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ماتحت عدلیہ میں کیش شورٹی قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے غیر مجاز طریقے سے جاری تھی جو اب بند کرا دی گئی ۔رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ کے احاطہ میں کیٹین دوکان کے ذمہ رینٹ اور بجلی بل کی مد میں 13 لاکھ سے زائد ادائیگی کی ہدایت کی گئی،جعلی ڈگری پر نکالے گئے دو ملازمین کے ذمہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے ہیں ریکوری پراسس جاری ہے۔ آڈٹ حکام کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات میں مجموعی شفافیت پائی گئی۔ عدالتی ذرائع کے مطابق رجسٹرار ہائی کورٹ کو اعلی عدلیہ میں کے مالی اختیارات تفویض کر دئیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…