اسلام آباد (این این آئی)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا کورونا وائرس سے نمٹنے کا طریقہ کار عقل سے ماورا ہے، صرف نئے نئے میٹر ایجاد کرنے سے اور اخباری بیانات دینے سے آپ کووڈ کو نہیں سنبھال سکتے،کورونا سے متعلق جو حفاظتی اقدامات ہونے چاہیے تھے وہ نہیں کیے گئے،سندھاسمبلی کا اجلاس آن لائن ہورہا ہے ،ایوان میں صرف 25 فیصد اراکین کو
بیٹھنے کی اجازت ہے ،باقی ہم نے نشستیں ہی نکال دی ،این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں کہیں پر کوئی شکایت نہیں تھی،انتخابی عمل میں اصلاحات کی ضرورت ہے،الیکشن کے حوالے سے آرڈیننس لانا کوئی حل نہیں ۔ بدھ کو یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی باتیں سن کر روز حیرت ہوتی ہے، روز ایک نیا وزیر آجاتا ہے، ایک چاند دیکھتے تھے پھر اگلے وزیر نے کہا کہ میرا کام ہی نہی چاند دیکھنا، اب انہوں نے میٹر بھی نکال لیا ہے جو کیچ کرلیتا ہے کہ ایس او پیز پر کتنا عملدرآمد ہورہا ہے وہ ایک بٹن دبا تے ہیں اور اعداد و شمار آجاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ این سی سی کے گزشتہ اجلاس میں، میں نے انٹرسٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کی تجویز دی تھی جو نہیں مانی گئی اور اس کی وجہ سے کووِڈ کا انفیکشن ایک جگہ سے دوسری جگہ گیا اسے چیک کرنے کا میٹر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے پروازیں بند کردیں یہاں سے جانے والے مسافروں پر یا تو پابندی ہے یا انہیں 14 روز قرنطینہ کرنا پڑتا ہے اس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ہاں صرف سیاسی بیانات دینے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وفاقی وزرا کے آپس میں اختلافات اتنے زیادہ ہیں اور وہی ان کی حکومت کا طریقہ کار بتانے کے لیے کافی ہیں۔کورونا وائرس سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کووِڈ کی صورتحال پورے ملک میں سنگین ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ
جو اقدامات اٹھانے چاہیے وہ نہیں کررہے، اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آپ کراچی سے روزانہ 50 افراد کو اسلام آباد بلالیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کس سمت جارہے ہیں، گزشتہ روز میں کراچی سے اسلام آباد آیا تو جہاز پورا بھرا ہوا تھا، میں نے سنا تھا کہ 20 فیصد مسافروں تک محدود کررہے ہیں تاہم جب میں آیا تو وہ پوری بھری ہوئی تھیں اور امکان یہی ہے کہ بقیہ بھی بھری ہوئی ہوں گی۔انہوںنے کہاکہ سندھ میں ہم نے حاضری 20 فیصد کردی ہے، سندھ واحد صوبہ ہے
جہاں اسمبلی کا اجلاس آن لائن ہورہا ہے اور ایوان میں صرف 25 فیصد اراکین کو بیٹھنے کی اجازت ہے باقی ہم نے نشستیں ہی نکال دی اور ہر جماعت کے لیے نشستیں مخصوص کردی ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ وہ اقدامات ہیں جو اٹھائے جانے چاہیے، صرف نئے نئے میٹر ایجاد کرنے سے اور اخباری بیانات دینے سے آپ کووڈ کو نہیں سنبھال سکتے۔انہوں نے کہا کہ میں نے دیگر وزرائے اعلیٰ سے بات کرنے کی کوشش کی اور کے پی کے وزیراعلیٰ سے بات ہوئی تو انہوں 4 روز کا وقت دیا کہ آپ سب کو بتادیں کہ
ہم ٹرانسپورٹ بند کررہے ہیں لیکن پھر ایک وفاقی وزیر کو یہ کہتے سنا کہ آپ کس طرح ٹرانسپورٹ بند کررہے ہیں کہ عید کے موقع پر اطراف کے علاقوں سے سب لاہور آتے ہیں اور خریداری کرتے ہیں آپ انہیں کیسے روک سکتے ہیں حالانکہ اس وقت لاہور میں مثبت کیسز کی شرح 30 فیصد تھی۔انہوں نے کہا کہ دوسرے وزیر آکر کہتے ہیں رمضان کے آخری 10 دن شاید ہم بند کردیں گے اس لیے ابھی شاپنگ کرلیں اب ان لوگوں کے ساتھ بس اللہ تعالیٰ ہی ہماری کورونا وائرس سے نمٹنے میں
مدد کرے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دنیا میں وائرس سے نمٹنے کے چند ایک طریقے ہیں جن میں ایک ویکسینیشن ہے اور ہم ویکسین کی خریداری میں پسماندہ ممالک سے بھی پیچھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں کورونا کی صورتحال کوئی زیادہ اچھی نہیں ہے، ہم نے ہسپتالوں میں گنجائش بڑھائی ہوئی ہے، اگر آکسیجن کی سہولت والے بستر بھر بھی جائیں تو ہمارے پاس آکسیجن موجود ہے۔انہوںنے کہاکہ میری وفاقی حکومت سے بس اتنی گزارش ہے کہ اس حوالے سے سنجیدہ ہوں اور وہ اقدامات اٹھائیں جس سے
وبا کا پھیلاؤ قابو کیا جاسکے۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں کہیں پر کوئی شکایت نہیں تھی اور بطور انتظامیہ ہم بہت خوش تھے کہ خوش اسلوبی سے یہ الیکشن ہوگیا۔انہوںنے کہاکہ درجہ حرارت کافی تیز تھا اور 5، 6 بڑی سیاسی جماعتیں اس میں حصہ لے رہی تھی اس کے باوجود بڑی اچھے طریقے سے یہ الیکشن ہوگیا۔انہوںنے کہاکہ دوبارہ گنتی کی درخواست کو سب سے پہلے ریٹرننگ افسر نے مسترد کیا تھا کیوں کہ آر او گراؤنڈ پر ہوتے ہیں، انہوں نے
اس سارے نظام کا مشاہدہ کیا تھا اور اگر آر او کے پاس کوئی شکایت نہیں آئی تو وہ کس بنیاد پر دوبارہ گنتی کا فیصلہ کریگا لیکن الیکشن کمیشن کا فیصلہ اس سے مختلف آیا مگر ہم نے اسے قبول کیا ہے۔حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات سے متعلق 2 آرڈیننس کی منظوری سے متعلق سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف بڑا واضح ہے کہ یہ باتیں نئی نہیں ہیں جب 2017 میں نیا الیکشن قانون بنا تھا اس وقت بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کی بات ہوئی تھی لیکن ہمارے اداروں کی
طاقت کے حوالے سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین شاید مناسب نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ آرڈیننس لانا کوئی حل نہیں ہے کیوں کہ آرڈیننس کی زندگی 4 ماہ ہوتی ہے، 4 ماہ میں الیکشن ہوجائیں تو اور بات ہے اور میرا نہیں خیال کہ قومی اسمبلی یا سینیٹ اسے اس طرح منظور کرے گی، انتخابی عمل میں اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن وہ باہمی مشاورت سے ہوسکے گی۔



















































