جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے پاکستان کیلئے موٹر وے کا ایک اور شاندار منصوبہ منظور کرلیا،عاصم سلیم باجوہ نے خوشخبری سنادی

datetime 4  مئی‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن ) پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ سی پیک قومی ترقی کا منصوبہ ہے اور کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔کراچی میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سی پیک اتھارٹی کا کہنا تھا کہ 2 سال قبل گوادر فری زون فیز 60 ایکٹر پر شروع کیا تھا اور

اس وقت وہاں آبادی ہے، 12 میں سے 6 فیکٹریوں کی تعمیرات مکمل ہوچکی ہیں۔انہوں نے سی پیک کے تحت بڑھتی معاشی سرگرمیوں سے متعلق بتایا کہ وہاں ایک فیکٹری نے پروڈکشن شروع کردی ہے۔عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ فیز 2 کا آغاز ہونے والا ہے جو 22 سو ایکٹر پر محیط ہے اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ پشاور سے کراچی موٹر وے میں صرف ایک حصہ باقی رہ گیا ہے جو سکھر سے حیدر آباد تک کا ہے۔عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ بہت جلد اس حصے کی تعمیرات کا کام بھی شروع ہوجائے گا، اسلام آباد سے ڈی آئی خان موٹر وے کا منصوبہ چین نے منظور کرلیا ہے جبکہ ژوب سے کوئٹہ کے لیے کام جاری ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 2 سے 3 برس میں تمام روٹس آپس میں مل جائیں گے اور گوادر تک بہترین سفری سہولیات میسر ہوں گی۔چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا کہ مغربی روٹس کی تکمیل سے ملحقہ علاقوں اور قصبوں کے نوجوانوں کو نوکری میسر ہوگی، سڑکوں، انرجی

اور فائبر اوپٹک سے نکل کر زراعت اور اسپیشل اکنامک زون میں داخل ہور ہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غربت کا خاتمہ کا باعث اور جی ڈی پی میں اضافے کا باعث ہوگا وہ سب زراعت اور اسپیشل اکنامک زون کی بدولت ہوگا۔عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ چائنیز آئی ٹی سیکٹر میں دلچسپی کا

اظہار کررہے ہیںن کا کہنا تھا کہ رشکئی میں ایک ہزار ایکٹر پر اسپیشل اکنامک زون بن رہا ہے اور 2 ہزار درخواستیں آئی ہیں۔انہوں نیکہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹر کے ساتھ اجلاس کی اجازت دینے جارہے ہیں، فیصل آباد میں کینیڈا اور جرمن جوائنٹ وینچر نے اپلائی کردیا ہے ، پاکستانی امریکن ڈاکٹرز کا گروپ جو الیکٹرو میڈیکل آلات کے شعبے میں آنا چاہتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…