جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

بلھیا ڈر اونہاں توں جیہڑے جھک جھک کرن سلام، وزیراعظم کا بشیر میمن کے نام شعر

datetime 1  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ +این این آئی) وزیراعظم عمران خان ایف آئی اے کے سابق ڈی جی کے الزامات کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دے چکے ہیں، جب اس سلسلے میں صحافیوں نے وزیراعظم سے سوال کیا تو انہوں نے بشیر میمن کے ذکر پر شعر پڑھ کر اپنے جذبات کی ترجمانی کی، وزیراعظم نے شعر پڑھا کہ سخت زباناں رکھن والے

دیندے نئیں نقصان، بلھیا ڈر اونہاں توں جیہڑے جھک جھک کرن سلام۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بشیر میمن جو بھی کہہ رہے ہیں وہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کے حلقہ این اے-249 میں ضمنی انتخاب کے تناظر میں انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ 1970 کے الیکشن کے علاوہ تمام انتخابات میں دھاندلی کے دعویٰ کیے گئے اور انتخابی نتائج کی ساکھ پر شک پیدا ہوئے ہیں۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر متعدد ٹوئٹس میں انہوں نے کہا کہ ووٹرز کے ٹرن آوٹ میں نمایاں کمی کے باوجود این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں تمام سیاسی پارٹیاں چیخ چیخ کرکے دھاندلی کا دعویٰ کررہی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ایسا ہی معاملہ ڈسکہ اور سینیٹ انتخاب میں بھی ہوا۔انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ 1970 کے الیکشن کے علاوہ ہر انتخاب میں دھاندلی کے دعویٰ کیے گئے جس سے انتخابی نتائج مشکوک ہوگئے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 2013 کے انتخابات میں حلقہ این اے کی 133 نشستوں پر تنازع الیکشن ٹربیونلز کے سامنے پیش ہوا، ہم نے 4 حلقوں کی اسکروٹنی کا مطالبہ کیا جس میں دھاندلی ثابت ہوئی لیکن ہمیں ایک سال اور 126 دن دھرنا دینا پڑا جس کے بعد جوڈیشل کمیشن کے قیام عمل میں آیا اور اس نے الیکشن کے

ضابطہ اخلاق میں 40 نقائص کی نشاندہی کی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے کوئی خاطر خواہ اصلاحات عمل میں نہیں آئیں۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور ٹیکنالوجی کا استعمال ہی انتخابات کی ساکھ کو برقرار رکھنے کا واحد حل ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے

ساتھ بیٹھ کر ای وی ایم ماڈل میں سے انتخاب کریں جو انتخابات کی ساکھ بحال کرنے کے لیے ہمارے پاس دستیاب ہیں۔انہوں نے حال ہی میں منعقد امریکی صدارتی انتخاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کو متنازع بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن

انتخاب میں بی ای سی ٹیکنالوجی کی بدولت ایک بے قاعدگی بھی سامنے نہیں آسکی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ایک سال سے ہم اپوزیشن سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور ہمارے موجودہ انتخابی نظام کی اصلاح میں مدد کریں۔عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت پرعزم ہے اور انتخابات میں شفافیت اور اسکی ساکھ بحال کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے انتخابی نظام میں اصلاحات لائیں گے اور اپنی جمہوریت کو مضبوط کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…