جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں عالمی معیارکے وینٹی لیٹر نہیں بن رہے ،اہم حکومتی شخصیت کا اعتراف

datetime 26  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹرشبلی فراز نے انکشاف کیاہے کہ پاکستان میںعالمی معیارکے وینٹی لیٹر نہیں بن رہے ہیں،مقامی وینٹی لیٹر کارآمد نہیں 16میں سے صرف 4 فنگشنز پر پورا اترتاہے ،کورونا ایمرجنسی کیلئے آکسیجن اور ضروری اسٹاک موجود نہیں ہے،اسٹیل ملز کے آکسیجن پلانٹ ہنگامی طور پر

فعال کرنے میں بھی مسائل ہیں۔سوموار کووفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹرشبلی فراز نینسٹ یونیورسٹی کا دورے کے دورا ن میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ آج نسٹ یونیورسٹی کے دورے کا موقع ملا ، نسٹ یونیورسٹی کا عالمی اور ملکی سطح پر عملی میدان میں حصہ ہے، ہمیں دیکھنا ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں کا عوام کی زندگی پر کتنا اثر ہے،ہم نے نسٹ یا باقی یونیورسٹیوں کا انڈسٹری کے ساتھ لنک بنانا ہے،یونیورسٹی صرف ڈگری نہیں بلکہ ہنر بھی دیں تاکہ یونیورسٹیوں کا ملکی ترقی میں بھی حصہ ہواورطلبہ کو روزگار بھی ملے، حکومت کا کام صرف روزگار دینا نہیں ہوتا،حکومت کا کام ایساماحول بنانا ہوتا ہے جس سے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔ہمیں لوکل وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہمارے پاس کورونا ایمرجنسی کیلئے آکسیجن اور ضروری اسٹاک موجود نہیں ہے این آر ٹی سی اور پرائیویٹ فرمز وینٹی لیٹرز بنا رہی ہیں لیکن ہمارے وینٹیلیٹرز 16 میں سے صرف 4 فنکشنز پر پورا اترتے ہیںوزیر صنعت و پیداوار سے اسٹیل ملز کے آکسیجن پلانٹ سے متعلق بات ہوئی ہے اسٹیل ملز سے آکسیجن ہنگامی طور پر فعال کرنے میں وقت لگے گا اگر جلدفعال ہوجائے تو اچھی بات ہے لیکن لگتا ہے کہ اس میں مسائل ہیں۔سینیٹرشبلی فراز نے کہا کورونا سے نبردآزما ہونے کے لیے ہم سے جو بھی بھارت کے لیے ہوسکا ضرور کریں گے یہ انسانیت کا مسئلہ ہے بھارت کے ساتھ پوری ہمدردیاں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…