جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم صاحب ، کیا اب ہم تھوڑا سا گھبرالیں؟ بلاول بھٹو نے بھی پوچھ لیا، مہنگائی پر آڑے ہاتھوں لے لیا

datetime 25  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو ملک میں ہوشربا مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیکر مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان مہنگائی پر قابو نہ پانے کی ذمہ داری لیں اور استعفی دے کر گھر جائیں،میڈیا کو جاری بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو مخاطب کرتے

ہوئے سوال کیا کہ وزیراعظم صاحب، ملک میں مہنگائی بلند ترین سطح کو چھورہی ہے، کیا اب ہم تھوڑا سا گھبرالیں؟ انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں سوفیصد سے زائد اضافہ عام آدمی سے زندگی کا حق چھین لینے کے مترادف ہے،میڈیکل اسٹور پر پیسے کم ہونے کی وجہ سے دوا خریدے بغیر واپس جانے والے غریب کی آواز بننا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہے، وزیراعظم ہاؤس کے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر عمران خان کو ان والدین کی تکلیف کا کوئی احساس نہیں جو بچوں کے اسکول کی فیس تک ادا نہیں کرپارہے،مہنگائی کے خاتمے کے دعوے کرنے والے عمران خان کرائے کے گھر میں رہنے والے ایک عام آدمی کا مہینے کا بجٹ بنا کر دکھادیں، چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کوئی ایک عید ایسی نہیں گزرے گی جس میں مہنگائی کی وجہ سے نئے کپڑے بنانا بھی ایک گھرانے کیلئے آسان ہو،عمران خان نے کرپشن کے خلاف مہم کا جھانسہ دے کر عوام کو چینی کے حصول کیلئے لمبی قطار میں

کھڑا کردیا، دنیا بھر کے حکمران اپنے عوام کے فائدے سوچتے ہیں اور عمران خان چندہ لینے کی نئی ترکیبوں پر غور کرتے ہیں،اگر تین سال تبدیلی کیلئے کم ہیں تو آٹھ سالوں میں خیبرپختونخواہ میں سرکاری اسپتالوں کے مہنگے علاج کے علاوہ اور کیا تبدیلی آئی؟ ان کا مزید کہنا تھا

کہ وزیراعظم صاحب، لنگر خانے کھولنے سے غربت ختم نہیں ہوگی، آپ کو کچھ کرکے دکھانا ہوگا، عمران خان نے آٹے کے 20 کلو کے تھیلے پر 68 روپے زیادہ دینے والے عام آدمی کو روٹی کے نوالے تک سے محروم کرنے کی کوشش کی،آئی ایم ایف کے حکم پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنے

والے سلیکٹڈ وزیراعظم کے جرائم کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے جب حکمران خود چور ہوتا ہے تو ملک میں مافیا بے لگام ہوکر زیادہ منافع کے حصول کے لئے ہر چیز مہنگی کردیتا ہے،عمران خان کی تبدیلی یہ ہے کہ اپنے سرمایہ دار دوستوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر عام آدمی کو مہنگائی کے شکنجے میں کس دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…