جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان جلد بدلنے والا ہے، سارے علاقے ترقی کریں گے

datetime 23  اپریل‬‮  2021 |

مری (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے سیاحت کوملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم سیاحت کو ترقی دیں تو اپنے بیرون ملک کے تمام قرضے واپس کر سکتے ہیں،کوہسار یونیورسٹی یہاں کا مستقبل ہے، وہی قوم عظیم بنتی ہے جو آگے کا سوچتی ہے اور تعلیم کے بغیر قوم آگے نہیں بڑھتی،اب پاکستان بدلنے والا ہے ،

سارے علاقے ترقی کریں گے ،کوہسار یونیورسٹی سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا ،آپ اپنی سیاحت کے لیے چھوٹے چھوٹے گیسٹ ہاؤسز بنا سکیں گے۔ جمعہ کو مری میں پنجاب ہاؤس کو کوہسار یونیورسٹی میں بتدیل کردیا گیا اور وزیراعظم عمران خان نے یونیورسٹی کا افتتاح کیا۔یونیورسٹی کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہاں اتنی آبادی ہو چکی ہے لیکن کوئی ہسپتال نہیں ہے، نتھیا گلی میں ایک بنیادی صحت کا مرکز ہے اور وہاں صرف ایک ڈاکٹر ہے لیکن یہاں بہت زیادہ سیاح آتے ہیں جن کے لیے وہ ناکافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں 370 کنال کی جگہ خالی پڑی تھی اور وہاں ہسپتال بنانے کا منصوبہ جس کا بھی ہے میں اسے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ عوام کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ایک حکومت ان کی صحت کا دھیان رکھے اور تعلیم فراہم کرے کیونکہ تعلیم سے ہی ایک شخص ترقی کرتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ کوہسار یونیورسٹی یہاں کا مستقبل ہے، وہی قوم عظیم بنتی ہے جو آگے کا سوچتی ہے اور تعلیم کے بغیر قوم آگے نہیں بڑھتی۔انہوں نے کہا کہ میں پورا پاکستان اور دنیا بھی دیکھی ہوئی ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ نے جو نعمتیں ہمارے ملک کو بخشی ہیں، ہمیں بھی نہیں پتہ اور اسی لیے ہم ناشکری کر جاتے ہیں اور اگر ہمیں اندازہ ہو

جائے تو ہم سارا وقت اس کا شکر ادا کرتے رہیں کیونکہ اس نے پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی۔ انہوںنے کہاکہ ہم اس ملک میں سیاحت سے اتنا پیسہ کما سکتے جو ہمارے ایکسپورٹ اور ترسیلات زر سے زیادہ ہو گا اور ہم سیاحت سے ہی اپنے قرضے واپس کر سکتے ہیں لیکن ہماری سیاحت مری میں آ کر رک جاتی تھی۔وزیر

اعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں اگر آپ خیبر پختونخوا اور شمالی علاقے جات کی طرف جائیں تو کئی علاقے مری اور نتھیا گلی بن سکتے ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان بدلنے والا ہے اور یہ سارے علاقے ترقی کریں گے کیونکہ ہماری سیاحت ہر سال دوگنی ہو رہی ہے، ابھی بیرون ملک سے لوگ نہیں آ

رہے بلکہ اندر سے ہی سیاحت بڑھتی جا رہی ہے جس کی بڑی وجہ موبائل فون ہیں کیونکہ جو بھی گھومنے جاتا ہے وہ موبائل سے تصویر لے لیتا ہے اور فیس بک پر لگاتا ہے، لوگ اسے دیکھ کر وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیاحت اس ملک کا مستقبل ہے، اگر ہم نے سیاحت کو ترقی دیں تو اپنے بیرون ملک کے قرضے واپس کر

سکتے ہیں۔اس موقع پر عمران خان نے سوئٹزرلینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ ہمارے شمالی علاقہ جات کا نصف بنتا ہے اور وہاں ہمارے شمالی علاقہ جات کے مقابلے میں بہت کم خوبصورتی ہے کیونکہ دنیا کے 10 سے 12 اونچے پہاڑوں میں سے آدھے ہمارے شمالی علاقوں میں ہیں لیکن سوئٹزرلینڈ نے سیاحت کو ترقی دی اور

اسے سائنس بنایا۔انہوں نے کہا کہ کوہسار یونیورسٹی سے نوجوانوں کو نہ صرف روزگار ملے گا بلکہ آپ اپنی سیاحت کے لیے چھوٹے چھوٹے گیسٹ ہاؤسز بنا سکیں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم اب سڑکیں بھی بنا رہے ہیں، سوات موٹر وے بن گیا ہے اور اب چترال تک لوگوں کے لیے آسانیاں ہو جائیں گی اور سیاحت کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…