پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

سی ڈی اے کوکروڑوں کا نقصان، تحقیقات کیلئے پی اے سی کی ہدایت نظر انداز

datetime 15  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) جب عدالتی احکامات پر قومی احتساب بیورو حرکت میں آیا ہوا اور150 میگا اسکینڈلز میڈیا کی شہ سرخی بنے ہوئے ہیں ایسے میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کی اس ہدایت پر کان بند کئے ہوئے ہیں کہ بے ضابطگیوں اور بداعمالیوں کے مخصوص کیسز کی تحقیقات کی جائے، دستیاب ریکارڈ کے مطابق قومی خزانے کے نگراں ادارے نے سی ڈی اے کے پلاٹوں کی فروخت میں بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کا پتہ چلایا تھا ان پلاٹوں کی مارکیٹ میں مالیت 75 کروڑ روپے ہے ، کمیٹی نے سی ڈی اے کو ہر کیس کی تحقیقات کر کے رپورٹ پی اے سی کو پیش کرنے کی ہدایت کی تھی مگر سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ہدایت پر عمل کرنے پر تیار نظر نہیں آتے، پی ا ے سی نے حالیہ دنوں میں بدعنوانی کے کئی معاملات سی ڈی اے کو بھیجے مگر کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی معاملات کو لٹکانے کیلئے قانونی کارروائی سمیت مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ اور نتیجتاً پی اے سی اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں غیر مؤثر بے اختیار اور اہلیت سے محروم ہوتی جا رہی ہے ، پی اے سی نے بعض معاملات آڈٹ اعتراضات پر اٹھائے مگر ان احکامات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا، سی ڈی اے نے 2003 ء میں G-9مرکز، (کراچی کمپنی) میں پلاٹ نمبر29 کھلی نیلامی میں فروخت کیا، زیادہ بولی دہندہ نے مطلوبہ رقم طے شدہ مدت میں جمع نہیں کرائی اور دسمبر2003ء میں یہ نیلامی منسوخ کر دی گئی ، پانچ سال بعد نہ صرف بولی دہندہ کا معاہدہ فروخت (سیل ایگریمنٹ) بحال کر دیا گیا۔ بلکہ پلازہ کی اضافی منزل بنانے کی اجازت بھی دیدی گئی، اس منزل کی تعمیر کیلئے 260.3ملین روپے کی اضافی رقم بھی وصول نہیں کی گئی، آڈٹ اعتراض کے بعد نشاندہی ہوئی کہ سی ڈی اے کو 49 کروڑ 5 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، پی اے سی نے 22جنوری 2013ء کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا، مگراس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ ایک اور کیس میں سی ڈی اے نے 1988ء میں G9مرکز کے پلاٹ نمبر34-Aکو 58 لاکھ روپے میں فروخت کیا، کامیاب بولی دہندہ پلاٹ لینے نہیں آیا، اس کی 10فیصد سیکورٹی ڈپازٹ کو ضبط کرکے باقی رقم واپس کردی گئی ،22سال کے طویل عرصے بعد 28جولائی 2010ء کو ا س نے سی ڈی اے کودرخواست دی کی اس کا پلاٹ بحال کردیاجائے 18اکتوبر 2010ء کو اس کاپلاٹ بحال کر دیا گیا اور پلاٹ کی بحالی کی مطلوبہ فیس بھی اس سے نہیں لی گئی جو سی ڈی اے قوانین کے تحت لازمی ہے، آڈیٹرز نے نشاندہی کی کہ اس سے سی ڈی اے کو2 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا، پبلک اکائونٹس کمیٹی نے 22جنوری 2013ء کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ مگر اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا، دو سال بعد یہ معاملہ پھر پی اے سی کے سامنے آیا تو بتایا گیا کہ کیس عدالت میں زیر التواء ہے چنانچہ اس کی تحقیقات نہیں ہو سکتی، تیسرے معاملے میں مری روڈ پر واقع پلاٹ نمبر 48 کو، جو زرعی مقاصد کیلئے مختص تھا، 25لاکھ روپے فی کینال کے نرخ پر فروخت کر دیا گیا گیا، ایک حصے کو ملحقہ پلاٹ کے ساتھ ملا کر 500000 روپے کینال میں فروخت کردیا گیا، آڈٹ رپورٹ میں بتایاگیا اس سے سی ڈی اے کو 10 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، پہلے کی طرح تحقیقات کیلئے پی اے سی کے اس حکم پر بھی عمل نہیں ہوا۔ آڈٹ رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی کہ سی ڈی اے نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں آٹھ پلاٹس کو سستے داموں فروخت کردیا جس سے 10 کروڑ 30لاکھ روپے کاخسارہ ہوا، جنوری کے آخری ہفتہ میں پی اے سی نے ان معاملات کی تحقیقات کرنے کی پھر ہدایت دی لیکن پانچ ماہ گزرنے کے باوجود کوئی تحقیقات نہیں ہوئی، رابطہ کرنے پر سی ڈی اے کے ترجمان رمضان ساجد نے وعدہ کیا کہ تفصیلات ملتے ہی وہ فراہم کریں گے، سات روز گزرنے کے بعد دوبارہ ان سے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے کوئی معلومات نہیں دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…