پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ذیابیطس کے مریضوں کیلئے خوشخبری ، نیم کے پتوں سےآسان سا علاج کریں

datetime 11  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(یواین پی)نیم کے درخت کی یہ خاصیت ہے کہ اسے اینٹی سیپٹک مانا جاتا ہے۔ اسے مختلف بیماریوں اور مسائل کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ اس کااستعمال ادویات میں کر کے ان کو مہلک بیماریوں کے علاج کے قابل بنایا جاتا ہے۔ نیم کے پتے، پھو ل، چھال، ٹہنیاں اور جڑیں سب ہی مفید ہیں اور کسی نہ کسی بیماری کے لیے زیر استعمال آتی رہتی ہیں۔ یہ اپنے تلخ ذائقے کی

وجہ سے مہلک بیماریوں کے لیے مفید مانا جاتاہے۔ نیم کے پتوں کو زیادہ مقدار میں استعمال کر نا خطرناک ہو سکتا ہے اس لیے احتیاط کریں۔یو ں تو نیم کے پتے بخار، انفیکشن، جلد کے امراض، دانتوں کی بیماریوں اور بلڈ پریشر کے لیے بھی استعمال ہو تے ہیں۔ لیکن اس کا استعمال شو گر کے لیے بے حد مفید ہے۔اسے بلڈ شو گر کو کنٹرول کر نے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔نیم کے پتوں کا شربت شوگر کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ نیم کے پتوں کو پیس کر ان کو چھان لیں اور ان میں سے نکلنے والے عرق میں شہد ملا کر پی لیں۔(کیو نکہ یہ کڑوا ہو تا ہے۔ اس لیے شہد ملانے میں حر ج نہیں لیکن اس کا اثر اس کی کڑواہٹ میں ہے۔)ایک مٹھی نیم کے پتے کچی حالت میں کھانے سے شو گر کنٹرول رہتی ہے۔اسے سلا د کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے (زیادہ پتے کھانے سے گریز کریں یہ مسائل کا سبب بن سکتی ہے)۔بیس نیم کے پتے آدھا لیٹر پانی میں ابال لیں۔ جب اس کا رنگ سبز ہو جائے تو چھان کر پی لیں۔نیم کے پتوں کا پاؤڈر بنا کر ایک چمچ ایک گلاس پانی میں شامل کر کے صبح نہار منہ پی لیں۔نیم کے پتے پیس کر ان کو نہار منہ کھا لیں یا پانی میں شامل کر کے پی لیں۔نیم کی چائے بھی شو گر کے مریضوں کے لیے بہترین ہے۔ ایک کپ بو ائل کر کے اس میں نیم کے پتے شامل کریں۔ ابال آنے پر پی لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…