جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ضمنی انتخابات، الیکشن ٹربیونل نے ن لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کو کلین چٹ دیدی

datetime 2  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)الیکشن ٹربیونل نے لیگی رہنما مفتاح اسماعیل اور پیپلزپارٹی کے رہنماقادرخان مندوخیل کے خلاف این اے 249 کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے دونوں امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔۔جمعہ کوالیکشن ٹریبونل کراچی نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 پرمسلم لیگ(ن) کے امیدوارمفتاح اسماعیل اور

پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل کے خلاف الگ الگ دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ مفتاح اسماعیل کیخلاف درخواست پی ٹی آئی امیدوار حسنین علی ایڈووکیٹ جبکہ قادرخان مندوخیل کے خلاف محسن عباس کی جانب سے سے دائر کی گئی تھی۔پی ٹی آئی امیدوار حسنین علی ایڈووکیٹ نے الیکشن ٹریبونل سے استدعا کی کہ مفتاح اسماعیل کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں، کیونکہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت حلف نامے میں مفتاح اسماعیل نے گاڑی اور سرمائے کا ذکر نہیں کیا۔جس پر الیکشن ٹریبونل نے کہا کہ نااہلیت کا معاملہ مختلف ہوتا ہے، عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ کیا آپ کے مخالف امیدواربینک کرپٹ ہیں؟ کیا انہیں کسی کیس میں سزا ہوئی؟جواب میں پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لیگی امیدوار مفتاح اسماعیل نے اہلیہ کو ساڑھے تین کروڑ روپے کا گفٹ دیا، حلف نامے میں مفتاح اسماعیل نے ایک کروڑ کا تحفہ ظاہر کیا جبکہ باقی چھپادئیے، الیکشن ٹریبونل نے پی ٹی آئی امیدوار سے استفسار کیا کہ کیا ایف بی آر نے مفتاح اسماعیل کو کوئی نوٹس دیا؟۔پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل حسنین علی چوہان نے الیکشن ٹریبونل کو بتایا کہ آر او نے کاغذات کا جائزہ لینے کے بجائے صرف لفظ منظورلکھا۔بعد ازاں مفتاح اسماعیل کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ میرے موکل نے حلف نامے میں کوئی حقائق نہیں چھپائے، حسنین علی چوہان کے دلائل مفروضے پر قائم ہیں، میں پی ٹی آئی کے وکیل سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا کسی گاڑی کی دستاویزات میرے موکل کے نام ہیں؟فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن ٹربیونل نے لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کے خلاف اپیل مسترد کردی اور انہیں کراچی کے حلقے این سے 249 سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔الیکشن ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں پی ٹی آئی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتاہے آپ کا کیس مضبوط ہو مگر الیکشن سے قبل ٹریبونل ان معاملات کو نہیں جانچ سکتی۔دریں اثناالیکشن ٹربیونل نے این اے 249 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل کے خلاف بھی دائر درخواست مسترد کردی۔دوران سماعت لا آفیسر الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار اسکروٹنی کے وقت پیش نہیں ہوئے تھے۔ٹربیونل نے قادر مندو خیل کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازات دے دی۔واضح رہے کہ این اے 249 کی سیٹ پاکستان تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد خالی ہوئی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اس سیٹ کے لیے امجد آفریدی کو ٹکٹ دیا گیا ہے، اس سیٹ پر کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔عام انتخابات کے دوران اس سیٹ پر شہباز شریف کو فیصل واوڈا کے ہاتھوں چند سو ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…