جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان نے ملک آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 30  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن)نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ڈاکٹر عبدالغفور راشدنے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے استعفے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو ناکامیاں تسلیم کرکے استعفیٰ دینا چاہیے۔ مہنگائی بیروزگاری کے اصل ذمہ دار تو سلیکٹیڈ وزیراعظم ہیں۔ استعفیٰ تو انہیں دینا چاہیے۔ عمران خان نے ملک آئی ایم

ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ حکومت کے پاس ڈوبتی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے کوئی پروگرام ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی ویڑن۔میڈیا پر جھوٹ بولنے کے ماہر سرکاری ترجمانوں کے سہارے حکومت کو چلایا اور عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نے تین سالوں میں سوا ئے سبز باغ دکھانے کے کچھ نہیں کیا، ان سے اگلے دوسال میں بھی کچھ نہیں ہوسکے گا۔ این آر او نہیں دوں گا، مستقبل کے جھوٹے وعدوں اوردعووں پر اب تک حکومت کو چلایا جارہا ہے مگر عملی کارکردگی صفر ہے۔ سٹیٹ بینک آرڈیننس پارلیمنٹ کی توہین اور قومی بینک آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کی سازش ہے۔یہ ملکی سلامتی اورمالی خود مختاری کا معاملہ ہے۔ سیاسی جماعتوں کو خود مختاری کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے ورنہ آئندہ نسلیں برباد ہو جائیں گے۔اور ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ملک کو بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دینے کی سابقہ حکومتیں بھی ذمہ دارہیں مگر جو بربادی پی ٹی آئی حکومت نے کی ہے ،اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔عوام اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔بجلی مہنگی کرکے ندیم بابر نے اپنی دیہاڑیاں لگالی ہیں۔ چینی مہنگی کر کے جہانگیر ترین اپنی سرمایہ کاری سے کئی گنا زیادہ وصول کرچکے ہیں۔ مگر ابھی تک کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔جہانگیر ترین کو ابھی تک نیب طلب کیا گیا اور نہ ہی گرفتاری عمل میں لائی گئی، جبکہ اپوزیشن قیادت عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…