جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک کا عندیہ دے دیا گیا

datetime 26  مارچ‬‮  2021 |

لاہو ر(این این آئی) پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ اختلاف رائے سے اتحاد اور جماعتیں نہیں ٹوٹنی چاہیں،استعفے دینے کیخلاف نہیں صرف ٹائمنگ پر اختلاف رائے ہے،پنجاب میں چھ سات ووٹوں کے فرق کو سامنے رکھ کر عدم اعتماد کی تحریک لا سکتے ہیں، سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف بھی عدم

تحریک لائی جاسکتی ہے،(ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان تلخی نہیں ہونی چاہیے تھی،پیپلز پارٹی نے کسی کو ماضی میں دھوکہ دیا نہ اج،کبھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں نہیں کھیلے بلکہ اپنے بل بوتے پر آتے ہیں،آرمی چیف سے ملاقاتیں اور لوگ اور جماعتیں کرتی ہیں،الزام ہم پر آتا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتوں کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا اور رکھنا چاہیے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ورکرز کنونشن سے خطاب اور میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قمر زما ن کائرہ نے کہاکہ فیصل آبادلانگ مارچ کی نئی تاریخ جلد ائیگی،برسی کی بھر پور تیاری کر رکھی تھی،برسی کی اجتماعی تقریب نہ بھی ہوئی تو اضلاع کی سطح پر قرآن خاکوانی کی تقاریب منعقد کرینگے،عوام کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کیخلاف متحد ہیں اداروں پر عوام کا اعتماد نہیں،مزید آرڈیننس جاری کر کے منی بجٹ لایا جا رہا ہے۔یہ سبسیڈیز ختم کرنے جا رہے ہیں جسے مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی کی بات بچوں اور خواتین کی زبان پر ہے۔اس حکومت کا جانا ضروری ہے۔حکومت کیخلاف تحریک شروع ہوتے ہی اپوزیشن کو نوٹس جاری ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔احتساب کے حق میں ہیں،مگر یہ یکطرفہ نہیں ہونا چاہیے۔ایسا نیب بنایا جائے جو تمام اداروں کا بلا امتیاز احتساب کرے۔نیب گردی کیخلاف ساری اپوزیشن اکھٹی

ہے۔سیاسی عمل میں ادارہ جاتی مداخلت بند ہونی چاہیے۔آج بھی اپنے اصولوں پر قائم ہیں۔اختلاف رائے سے اتحاد اور جماعتیں نہیں ٹوٹنی چاہیں۔حکمران نئے نئے ٹیکس لگا کر ٹیکس جمع کرنا چاہتے ہیں۔عوام سے جڑی حکومتیں ہی کامیاب ہوتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ سینٹرل ایگزیکٹو سے فیصلہ لیکر پی ڈی ایم سے ملکر جدوجہد کرینگے۔

استعفے دینے کیخلاف نہیں صرف ٹائمنگ پر اختلاف رائے ہے۔پنجاب میں چھ سات ووٹوں کے فرق کو سامنے رکھ کر عدم اعتماد کی تحریک لا سکتے ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف بھی عدم تحریک لائی جاسکتی ہے۔(ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان تلخی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ہمارے پاس حکومت کو چلتا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ

نہیں۔گیلانی کا الیکشن ہم سے چھینا گیا۔ابہام کو دور کر لیا جائیگا۔پیپلز پارٹی نے کسی کو ماضی میں دھوکہ دیا نہ اج،کبھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں نہیں کھیلے بلکہ اپنے بل بوتے پر آتے ہیں۔آرمی چیف سے ملاقاتیں اور لوگ اور جماعتیں کرتی ہیں،الزام ہم پر آتا ہے۔پی ڈی ایم کی جماعتوں کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا اور رکھنا چاہیے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…