جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ میں کتوں نے 2 سالوں کے دوران 4 لاکھ سے زائد افراد کو کاٹ لیا

datetime 23  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)سینئر صحافی وتجزیہ کار کامران خان نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے سال سندھ میں کتوں نے2 لاکھ 40 ہزار لوگوں کو کاٹ لیا، 2019 میں ایک لاکھ 92 ہزار شہریوں کو کتوں نے کاٹا، سندھ ہائیکورٹ نے

سندھ کی کرتی دھرتی فریال تالپور کی اسمبلی رکنیت معطل کرکے کونسا ظلم کیا؟ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ سرکاری اعداد و شمار 2020 میں سندھ میں کتوں کے کاٹنے کے دو لاکھ 40 ہزارکیسز سامنے آئے یومیہ 650 ہر گھنٹے27 افراد کو کتوں نے کاٹا 2019 ایک لاکھ 92 ہزار شہریوں کو کتوں نے کاٹا۔سندھ ہائیکورٹ نے سندھ حکومت کی کرتی دھرتی فریال تالپور کی سندھ اسمبلی رکنیت معطل کی کونسا ظلم کیا؟ دوسری جانب پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور نے کتوں کے کاٹنے کے کیس میں اسمبلی رکنیت معطل کرنے کے سکھر بنچ کے فیصلے کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کردی ہے۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ عوامی تحفظ کو یقینی بنانا سب پر لازم ہے لیکن رکن اسمبلی براہ راست شہری حکومتوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے۔لہذا سکھر سرکٹ بنچ کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر فواد چوہدری فریال تالپور کی معطلی پر حمایت

میں کھڑے ہوگئے۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ سندھ ہائیکورٹ کا کتوں کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر وزرا کی معطلی کا حکم آئینی خلاف ورزی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ایسے عدالتی فیصلے آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں،عدالتی اصلاحات خصوصاً جج کے تقرر کا نظام فوری اصلاحات کا متقاضی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ اپوزیشن حکومت کے اصلاحات کے پروگرام میں اپنا کردار ادا کرے پاکستان کے عوام نظام میں بہتری چاہتے ہیں، لانگ مارچ کے التواء کے بعد اصلاحات کا موقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…