پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سادگی اورکفایت شعاری کے عملی اقدامات وزیراعظم ہائوس اورآفس کے اخراجات میں کروڑوں روپے کی کمی

datetime 5  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(اے پی پی)وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ریاست مدینہ کے وژن کے تحت سادگی اورکفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعہ وزیراعظم آفس کے اخراجات میں کمی لانے کے وعدے کے مطابق مالی سال 2020 میں وزیراعظم آفس کے روزمرہ(آپریٹنگ) اخراجات کی مدمیں نمایاں کمی لائی گئی ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے اقتدارمیں آنے سے

پہلے اوروزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالتے وقت وزیراعظم ہائوس اوروزیراعظم آفس کے اخراجات میں کفایت شعاری کے ضمن میں مثال قائم کرنے کاوعدہ کیاتھا ، وزیراعظم عمراں خان نے عوام سے ٹیکسوں کی صورت میں حاصل کردہ قومی خزانہ کے تحفظ کیلئے نہ صرف وزیراعظم ہائوس اوروزیراعظم آفس کے اخراجات میں نمایاں کمی لانے کا وعدہ پوراکردیا بلکہ عوام کے پیسوں کے ممکنہ تحفظ کیلئے دیگر حکومتی عہدیداروں کیلئے بھی ایک مثال قائم کی جس کی تصدیق مالی سال20 ۔ 2019 کے بجٹ اوروزارت خزانہ کی دستاویزات سے بھی ہورہی ہے۔بجٹ وسرکاری دستاویزات کے مطابق وزیراعظم آفس کیلئے آپریٹنگ اخراجات کی مدمیں مالی سال 2020 میں 218 ملین روپے مختص کئے گئے تھے تاہم کفایت شعاری کے اصولوں پرکاربند رہتے ہوئے کل اخراجات کا حجم 46 ملین روپے ریکارڈکیاگیاہے جوتخمینہ شدہ بجٹ سے بہت کم ہے۔عوام کے ٹیکسوں سے حاصل پیسوں کے موثر اوربامقصد استعمال کے زریعہ سفر

وٹرانسپورٹ اخراجات کی مدمیں ایک کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق تفریح وتحائف کی مد میں مالی سال 2020 میں 15 لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے تاہم ایک ذمہ دارقیادت کی مثال کوقائم رکھتے ہوئے اس مد میں کل اخراجات محض ایک ہزارروپے

رہے دلچسپ امریہ ہے کہ ایک ہزارروپے بھی اکاونٹ کو برقراررکھنے پرصرف ہوئے ہیں۔وزیراعظم کی ہدایت پرمادی اثاثہ جات کی مدمیں 4 کروڑروپے کی بچت کویقینی بنایاگیا، اسی طرح ٹوراخراجات کی مدمیں 1.2 ملین روپے جبکہ متفرق اخراجات کی مدمیں 2 کروڑ روپے

کی بچت کی گئی۔بجٹ وسرکاری دستاویزات کے مطابق کفایت شعاری کے ضمن میں سب سے اہم اورنمایاں کمی صوابدیدی گرانٹس کی مدمیں ہوئی ہے، اس مدمیں مالی سال 2020 کیلئے ایک ملین روپے مختص کئے گئے تھے تاہم اصل اخراجات محض ایک ہزارروپے رہے اوروہ

بھی اکاونٹ کوبرقراررکھنے پر صرف ہوئے۔گھریلو ملازمین کے معاوضہ جات کی مدمیں تقریباً 3 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے جو کفایت شعاری کے وژن پرکاربندہونے کی بہترین مثال ہے۔پرائم منسٹرزایسٹیٹ گارڈن ایسٹبلشمنٹ کی مدمیں تقریباً ایک کروڑ روپے کی بچت کویقینی

بنایاگیاہے۔کسی بھی میزانیہ (بجٹ) میں دوطرح کے مصارف ہوتے ہیں، ایک ملازمین سے متعلق اخراجات جبکہ دوسرے آپریٹنگ اخراجات ہوتے ہیں۔ وزیراعظم آفس کے ملازمین اوراہلکاروں سے متعلق اخراجات تنخواہ اورالاونسزپرمشتمل ہیں ،مالی سال 2020 میں

وزیراعظم آفس کے ملازمین اوراہلکاروں سے متعلق اخراجات میں معمولی اضافہ ہواہے جو ملازمین کی سالانہ ترقی (انکریمنٹس) کی وجہ سے ہواہے، یہ انکریمنٹس حکومتی ملازمین کا بنیادی حق ہے، ان انکریمنٹس کی وجہ سے مالی سال 2020 میں پی ایم آفس کے مجموعی بجٹ میں

پیوستہ مالی سال کے مقابلہ میں معمولی اضافہ ہواہے تاہم مجموعی طورپرہرطرح کے اخراجات میں کمی کویقینی بنایا گیاہے۔بجٹ وسرکاری دستاویزات کے مطابق سرکاری خزانہ پربوجھ کو کم کرنے کے ضمن میں اب تک وزیراعظم نے اپنے آفس کے اخراجات کو کم کرنے کے وعدے پرعمل درآمدکیاہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے اس طرزعمل سے دیگرسیاسی رہنماوں کیلئے بھی ایک مثال قائم کردی ہے کہ کس طرح کارگردگی پرسمجھوتہ کئے بغیرغیرضروری اخراجات کو کم کیاجاسکتاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…