بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کے پاس اب استعفے کے سوا کوئی راستہ نہیں،اسمبلی سے اعتماد لینے کے ڈرامے نہ کریں، پی ڈی ایم نے کھری کھری سنا دیں

datetime 3  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد پی ڈی ایم قیادت کا مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کا عدم اعتماد کا چیلنج قبول کرنے سے گریز کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن واضح کیا ہے کہ عمران خان کے پاس اب استعفے کے سوا کوئی راستہ

نہیں،اسمبلی سے اعتماد لینے کے ڈرامے نہ کریں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ جمہوریت میں رہ کر عمران خان کو شکست دی ہے۔ بدھ کو پی ڈی ایم کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں جیت کے بعد احسن اقبال بلاول بھٹو زرداری یوسف رضا گیلانی راجہ پرویزاشرف سمیت پی ڈی ایم رہنماوں کا اہم اجلاس مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ہوا۔ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کا مرحلہ مکمل ہواپوری قوم کی نظریں قومی اسمبلی میں انتخاب پر تھیں،یوسف رضا گیلانی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کا جعلی چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے عمران خان جعلی تھا اب اخلاقی جواز بھی کھو بیٹھا ہے اب اس کے پاس استعفے کے سواکوئی راستہ نہیں،ہم نئے انتخابات چاہتے ہیں،عمران خان نے اپنا ووٹ بھی ضائع کیا ہے وہ خود بھی ضائع ہوگئے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پوری قوم کو مبارک ہے جمہوری طریقہ سے الیکشن لڑا ہے شکست دی ہے اگر جمہوریت سے چلیں گے تو مخالف کو شکست دیں گے۔ یوسف رضا گیلانی نے تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پوری قوم اور اپوزیشن کومبارک باد کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن سے پوچھا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے

کا اعلان کیا ہے کیا پی ڈی ایم ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیگی؟تو مولانا بولے اب وہ اخلاقی جواز کھو چکا ہے استعفیٰ دے اعتماد کا ووٹ لینے کے ڈرامے نہ کرے صحافی نے پوچھا حکومت کہتی ہے یوسف رضا گیلانی نہیں علی حیدر گیلانی فارمولا جیتا ہے تو احسن اقبال نے کہاکہ کیا علی حیدر گیلانی فارمولا جیتا ہے تو پھر وزیر اعظم اور ایک وفاقی وزیر اس کا شکار ہوئے ہیں،وزیر اعظم بھی پھر یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…