بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سینٹ کے ’’منگل بازار‘‘ کی ویڈیو کا وائرل ہونا الیکشن کمیشن کیلئے چیلنج ہے، علی حیدر گیلانی کے اعتراف جرم کے بعد اب کم از کم وڈیو کے فرانزک کی ضرورت نہیں ہے،حافظ حسین احمد نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 2  مارچ‬‮  2021 |

کوئٹہ/اسلام آباد ( این این آئی)جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا کہ سینٹ کے انتخابات سے ایک دن قبل سینٹ کے ’’منگل بازار‘‘ کی وڈیو کا وائرل ہوناالیکشن کمیشن کے لئے ایک تازیانہ ہے ۔ وہ منگل کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ علی حیدر گیلانی کے اعتراف جرم کے بعد

اب کم از کم وڈیو کے فرانزک کی ضرورت نہیں ہے اب سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد اب تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہی بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کے مرحوم و مغفور بیانہ کا آج 3مارچ کو ’’گیارویں‘‘ ہے جبکہ ’’تیجا‘‘ تو ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کے وقت ہی تھاجبکہ لگتا ہے کہ 26 مارچ کا ’’رینٹل مارچ ‘‘ شاید لندن بیانیہ کا ’’چالیسواں ‘‘ ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی نے منظر عام پر آنے والے ویڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ویڈیو میری ہے، جس میں سینیٹ الیکشن پر بات ہورہی ہے۔ شازیہ مری کے ہمراہ پریس کانفرنس میں علی حیدر گیلانی نے کہا کہ وڈیو میں میری گفتگو سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب نے جس طرح ووٹ خریدا وہ سب کے سامنے ہے، ہم نے ضمیر کا ووٹ مانگا ہے، جو ہم نے ساری زندگی مانگا ہے۔سابق وزیراعظم کے صاحبزادے نے کہا کہ ہم نے کبھی ووٹوں کی خرید و فروخت میں حصہ نہیں ڈالا، تمام ممبران اسمبلی سے ووٹ مانگنا ہمارا حق ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھے کہا کہ ہم ووٹ گیلانی صاحب کو دینا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی ارکان نے دوران گفتگو کہا کہ ہم ایسے فرد کو ووٹ کیوں دیں جو ہم سے ملتا تک نہیں ہے۔علی حیدر گیلانی نے کہا کہ ہم نے پھر بھی ملنا ہے اور ووٹ بھی مانگنا ہے، عمران خان نے اپنے تمام اراکین کو 50 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان پر نوٹس لینا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…