بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سی پیک ، ایٹمی ہتھیاروں ، توہین رسالتۖ قانون کی نقب زنی کے لئے عالمی بساط بچھائی جانے لگی تہلکہ خیز انکشافات

datetime 21  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی ڈاکٹر دانش نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ میں اپنے پاکستانیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بین الاقوامی طاقتیں اس وقت پاکستان پر پنجے گاڑنے کے لیے مکمل طور پر ایکٹو ہو چکی ہیں۔اس وقت پاکستان کی معیشت مکمل طور پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے شکنجے میں ہے۔اسی لیے مہنگائی اور

مختلف ٹیکسوں کی صورت میں عوام کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہاہے۔بین الاقوامی طاقتوں نے سی پیک کو ہولڈ کر کے رکھ دیا ہے اور اب یہ لوگ سینیٹ الیکشن کی طرف متحرک ہو چکے ہیں۔ڈاکٹر دانش نے کہا کہ بین الاقوامی طاقتیں سینیٹ پر اس لیے قبضہ کرنا چاہتی ہیں کیونکہ پاکستان کی مکمل قانون سازی یہیں سے ہونی ہے لہذا یہ لوگ اپنے سینیٹر منتخب کروائیں گے اور کل کو ہر اس چیز پر قانون سازی آرام سے کروا لیں گے جو ان کے حق میں بہتر ہو گی۔توہین رسالت کے حوالے سے قانون سازی ہو یا پھر ملکی مفاد کے حوالے سے ہو یا پھر ایٹمی وسائل کی بات ہو سب چیزوں پر قانون سازی آسانی سے کروا لی جائے گی۔ڈاکٹر دانش نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ سینیٹ الیکشن پر غور کریں تو ا س وقت پیسے کا استعمال بہت زیادہ ہے اور اتنا اربوں کھربوں روپیہ آ کہا سے رہا ہے یہ کوئی سوال نہیں پوچھتااور نہ ہی اس طرف کسی کا دھیان جا رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ اس وقت سینیٹ الیکشن میں ٹکٹس ان لوگوں کو دیے جا رہے ہیں جن

کے پاس پیسہ ہے اور ان لوگوں کو دیے جا رہے ہیں جن کے پاس دوہری شہریت ہے اور وہ لوگ اپنے ان آقائوں کے لیے کام کریں گے جن کی ایما پر سینیٹ میں لائے جا رہے ہیں۔اس وقت بین الاقوامی ایجنٹس ایکٹو ہیں جنہوں نے معیشت کو یرغمال بنا لیا ہے اور سی پیک کو مفلوج کرنے

کے بعد پارلیمنٹ کی طرف اپنے قدم بڑھا رہے ہیں جس کے بعد وہ ہمارے نیوکلیئر وسائل کو ہدف بنائیں گے۔مگر اس سب سے پہلے ایک اور کام ہونا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔کیونکہ یہ سارا کھیل اسی لیے رچایا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کروا کر اسرائیل کو تسلیم کروایا جائے۔واضح رہے کہ سینٹ الیکشن اگلے ماہ کی 3تاریخ کو ہونے جارہے ہیں جس کیلئے تمام سیاسی جماعتیں بہت متحرک ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…