ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

400 روپے کلو بکنے والے ٹماٹر کاشتکار مفت بانٹنے لگے

datetime 18  فروری‬‮  2021 |

پنگریو(این این آئی)پنگریو اورزیریں سندھ کی دیگرمنڈیوں میں تاجروں نے کسانوں سے ٹماٹروں کی خریداری بند کردی ہے جس کی وجہ سے کسانوں نے چنائی کردہ ٹماٹر مویشیوں کوکھلانا اور ضائع کرنا شروع کردیے ہیں پنگریو۔ٹنڈوباگو۔بدین۔شادی لارج سمیت ضلع بدین اورزیریں سندھ کے دیگرشہروں کی ٹماٹرمنڈیوں میں ٹماٹروں کے

ڈھیر لگ گئے ہیں اور ملکی ضرورت کے مقابلے میں بہت زیادہ مقدار میں ٹماٹرمنڈیوں میں آنے کے باعث تاجروں نے کسانوں سے ٹماٹروں کی خریداری بند کردی ہے جس کی وجہ سے کسان اپنے ٹماٹر منڈیوں سے واپس لانے پرمجبور ہوگئے اورانہوں نے اپنے ٹماٹرمویشیوں کو بطور چارہ کھلانا شروع کردیے ہیں جبکہ متعددکسانوں نے ٹماٹروں کے کھیتوں میں ہل چلادیے ہیں کسانوں کے مطابق گزشتہ چند روز میں ٹماٹروں کی قیمتوں میں زبردست کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے کسانوں کو معاشی نقصان ہورہاتھامگر اب تو تاجروں نے ٹماٹروں کی خریداری سرے سے بند کردی ہے اس حوالے سے تاجروں نے بتایا کہ کسانوں نے ٹماٹرکی چنائی تیز کردی ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ مقدار میں ٹماٹرمنڈیوں میں آرہا ہے ملکی ضرورت سے زیادہ ٹماٹرآنے کے باعث اس کی خریداری عارضی طورپر بند کی گئی ہے جوکہ ایک دوروزمیں دوبارہ شروع کردی جائے گی اس حوالے سے کاشتکارتنظیم کے سرپرست اعلی فیاض شاہ راشدی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پچھیتی کاشت کی گئی ٹماٹرکی فصل اب پک کر تیار ہوئی ہے جوکہ مارکیٹ میں لائی جارہی ہے ایک طرف توسندھ میں ملکی ضرورت سے زیادہ مقدارمیں ٹماٹرکی پیداوارحاصل ہورہی ہے تو دوسری طرف وفاقی حکومت نے ایران سے ٹماٹروں کی درآمدجاری رکھی

ہوئی ہے جس کی وجہ سے اب تاجروں نے سندھ کے کسانوں سے ٹماٹرخریدنا ہی بند کردیے ہیں اورکسان بھاری لاگت سے تیارہونے والی اپنی ٹماٹرکی فصل تلف کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے طرزعمل سے سندھ کے کسان آئیندہ ٹماٹرکی فصل کاشت کرنے سے گریز کریں گے جس کا ملکی زرعی معیشت

اورعوام پر منفی اثرپڑے گا ۔دوسری جانب ایک نجی ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ چار سو روپے کلو فروخت ہونے والا ٹماٹر انتہائی سستا ہو گیاہے اور منڈیوں میں انتہائی وافر مقدار میں موجود ہے یہاں تک کہ کسانوں سے ٹماٹر نہ خریدنے کی وجہ سے خراب ہو رہا ہے جس پر کئی کسانوں نے ٹماٹر مفت تقسیم کرنا شروع کر دیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…