بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

محض 10 روپے کی خاطر بدبخت بیٹے نے ماں کو ابدی نیند سلا دیا

datetime 12  فروری‬‮  2021 |

اٹک(آن لائن)صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کے شہر حسن ابدال میں محض 10 روپے کی خاطر بیٹے نے اپنی ماں کو ابدی نیند سلا دیا۔ تفصیلات کے مطابق واقعہ 3 فروری کو تھانہ حسن ابدال کے علاقہ برہان میں پیش آیا، جہاں ملزم نے والدہ سے سگریٹ پینے کے لیے پیسے مانگے لیکن ماں نے اس کو سگریٹ نہ پینے کے حوالے سے

نصیحت اور ڈانٹ ڈپٹ کی، جس پر طیش میں آکر بدبخت بیٹے نے سگی ماں نورینہ بی بی کو سر میں گولیاں مار کر ابدی نیند سلا دیا، جس کے بعد وہ جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا تاہم بعد ازاں پولیس ملزم کو تلاش کرکے اسے گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی جس کے قبضے سے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم زاہد عرف سترنگی نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ماں کو مارنے کے بعد نیند نہیں آتی، میں ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن مجھ سے غلطی ہوگئی۔دوسری طرف لاہور کے علاقے شالیمار میں ڈیڑھ ماہ قبل4سالہ بچے کے قتل کا ڈراپ سین ہوگیا، ماں کے مبینہ آشنا نے 4سالہ بچے کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیڑھ ماہ قبل قتل ہونے والے 4 سالہ بچے عبد الرحمان کے قتل کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، لاہور پولیس نے ملزم آصف کو گرفتار کرلیا ہے جس کے بعد دوران تفتیش ملزم نے اعتراف جرم کرلیا۔بتایا گیا ہے کہ بچے کے والد نے2 شادیاں کررکھی تھیں، جس کے باعث عبد الرحمان کی والدہ کو اسکا شوہر اکرام وقت نہیں دیتا تھا، اس لیے بچے کی والدہ اپنی ماں کے گھربہنوں کیساتھ رہائش پذیرتھی، پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ قاتل آصف کے بچے کی والدہ اوراسکی بہنوں کے ساتھ 6 سال سے تعلقات تھے اور ملزم رات گئے تک انہی کے گھر میں

رہتاتھا۔ بتایا گیا ہے کہ بچے کاوالد اکرام جب بھی گھر آتا توبچہ ملزم آصف کے ساتھ کھیلتا رہتا تھا جس پر بچے کے والد اکرام کو شک ہوا کہ بچہ اسکا نہیں بلکہ ملزم آصف کا ہے، بچے کے والد اکرام نے شک گزرنے پر آصف کو گھر آنے سے منع کردیاتھا جس کا ملزم کو رنج تھا، ملزم نے طیش میں آکر بچے کو ماردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…