بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

آپ اپنے اخراجات کم کریں۔۔۔تنخواہوں میں اضافےکیلئے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کو شبلی فراز کا مشورہ‎‎

datetime 10  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی ) تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج کرنے والے وفاقی سرکاری ملازمین اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں علاقہ میدان جنگ بن چکا ہے ۔ سیکڑوں سرکاری ملازمین نے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے ریلی نکالی اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کی کوشش کی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔پولیس کی بھاری نفری نے

سرکاری ملازمین پر آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی تو ملازمین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں سیکرٹریٹ چوک میدانِ جنگ بن گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے درجنوں احتجاجی ملازمین اور ان کے رہنماؤںکو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین سے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ہر ملازم کی مشکلات کا احساس بخوبی ہے آپ سب کو چاہیے کہ اپنے اخراجات میں کمی لائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ میں تمام ملازمین کی تنخواہیں بڑھا دی جائیںگے ، جبکہ سرکاری ملازمین کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ 23ہزار تنخواہ لینے والا سرکاری ملازمین اپنے اخراجات میں کتنی کمی لائے ، ملکی میں مہنگائی کا طوفان ہے جو روکنے کا نام نہیں لے کررہا ۔قبل ازیںکابینہ ڈویژن کے ملازمین نے وزارت اطلاعات میں داخل ہوتے ہوئے شبلی فراز کی گاڑی روک لی اور گرفتار رہنماؤں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ملازمین نے مین سری نگر ہائی وے دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بلاک کردی۔صورتحال کے باعث شہر میں شدید ٹریفک جام ہوگیا جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ملازمین کی ہڑتال کے باعث وزارتوں، محکموں، ڈویڑنز میں سرکاری امور ٹھپ ہوگئے۔ حکومت نے گریڈ 1 سے 16 تک تنخواہوں میں 24 فیصد اضافے کی اصولی منظوری دی ہے لیکن وفاقی ملازمین کی جانب سے تنخواہوں میں 40 فیصد تک اضافے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافے کا کہا جارہا ہے۔ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اختیار صوبائی حکومت کا ہے۔سیکرٹریٹ، کابینہ ڈویژن، کوہسار کمپلیکس سمیت تمام وزارتوں کے ملازمین نے دفتروں میں جانے سے انکار کر دیا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری دفاتر کے امور چوپٹ ہو گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…