بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

2018ء سینٹ انتخابات میں پیسے لینے کا معاملہ ، اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے کہنے پر پیسے لیے، تحریک انصاف کے سابق رکن اسمبلی کا انکشاف‎

datetime 9  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)ووٹ فروخت کرنے والے تحریک انصاف کے ایک رکن نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے پیسے وصول کیے مگر یہ رقم پرویز خٹک کے کہنے پر اسپیکر ہاؤس میں تقسیم کی گئی، تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے نے معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران  ویڈیو میں نظر آنے والے عبیداللہ مایار نے کہا کہ یہ ویڈیو بالکل ٹھیک ہے

مگر پیسوں کی تعداد غلط بتائی گئی۔ امت کے مطابق اس میں ہر ایم پی اے کو ایک کروڑ روپے دیے گئے۔ یہ حکومت کے پیسے تھے اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے کہنے پر اسپیکر ہاؤس میں تقسیم کیے گئے۔ایک سوال کے جواب میں کہ اپنے امیدوار کو ووٹ دینے کیلئے پرویز خٹک نے پیسے کیوں دیے۔ اس پر عبیداللہ مایار نے جواب دیا کہ سینیٹ انتخابات کے دوران تحریک انصاف نے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیے جو نہ پارٹی سے تعلق رکھتے تھے اور نہ ہی وہ سیاسی کارکن ہیں۔دوسری جانب سینیٹر فدا محمد خان نے سابق ایم پی اے عبید اللہ مایار کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کااعلان کردیا۔سینٹ ویڈیو اسکینڈل کے حوالے سے پی ٹی آئی سینیٹرفدا محمد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ سابق ایم پی اے عبید اللہ مایار نے بے بنیاد الزامات لگائے،قانونی چارہ جوئی پر کرونگا۔انہوں نے کہا کہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ جمہوریت کے لئے شرمناک ہے۔انہوں نے کہاکہ ویڈیو میں سابق ایم پی اے عبیداللہ مایار کو واضح دیکھا جاسکتا ہے۔فدا محمد نے کہاکہ اول سے سینٹ انتخابات میں شفافیت عمران خان کا وژن ہے جسکا میں سپاہی ہوں،وزیراعظم عمران خان نے انکوائری کے بعد ہی اپنے 20 ایم پی اے پارٹی سے نکالے۔انہوں نے کہاکہ سابق ایم پی اے عبید اللہ مایار کے مجھے سے متعلق الزامات مضحکہ خیز ہیں،عبید اللہ مایار بتائے کہ انکو پارٹی سے کیوں نکالا گیا؟۔سینیٹر فدا محمد خان نے کہا کہ سابق ایم پی اے عبید اللہ مایار کا ماضی سب جانتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سیاست میں الزام تراشی آسان ہے،کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…