بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کا بلین ٹری سونامی پروگرام کی سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی کا حکم

datetime 8  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے بلین ٹری سونامی پروگرام کی سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیات میں بہتری کیلئے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کوششیں قابل ستائش ہیں، آب و ہوا کے بدلاؤ کے اثرات کو کم کرنے کیلئے ارلی وارننگ سسٹم کو حتمی شکل دی جائے۔پیر کو وزیراعظم عمران

خان کی زیرصدارت خصوصی کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے وزرائے اعلی، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر بجلی عمر ایوب خان، وفاقی وزیر آبی وسائل محمد فیصل واوڈا، معاون خصوصی ملک امین اسلم اور وزیر مملکت زرتاج گل نے شرکت کی۔اجلاس میں گرین ہاؤس گیسز کے جدید انوینٹری ذخائر اور بلین ٹری سونامی پروگرام پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ سے ملکی جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے، درختوں کے باعث ماحول دوست تبدیلیاں بھی ممکن ہوئی ہیں، ملک بھر میں جنگلات کی کٹائی کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، دنیابھر میں زہریلی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ ہے، پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بھی بہتری ہوئی ہے، مجموعی درجہ بندی 2015 کے 135 سے بڑھ کر 2018 میں 133 ہوگئی ہے، پاکستان 2021 کے وسط تک پہلا بلین ٹری ہدف حاصل کرنے کے لئے تیار ہے، ہدف مکمل ہونے پر ملک بھر میں تقریبات ہوں گے، پاکستان 2023 تک 3 ارب سے زائد درخت لگا لے گا۔وزیراعظم نے ماحولیات میں بہتری کیلئے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آب و ہوا کے بدلاؤ کے

اثرات کو کم کرنے کے لئے ارلی وارننگ سسٹم کو حتمی شکل دی جائے۔وزیر اعظم نے ندیوں کے آلودہ سطح کے پانی کو صاف کرنے کے لئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے بلین ٹری سونامی پروگرام میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور منصوبے میں شفافیت کیلئے اسپارکو سے تعاون لینے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے بھی نگرانی کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…