بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

جب سے عمران خان آیا ہے، مجبوری میں یہ کام کر رہے ہیں، ڈاکو نے ڈکیتی کی وجہ عمران خان کو قرار دے دیا، دکاندار اور ڈاکو کی گفتگو کی ویڈیو وائرل

datetime 6  فروری‬‮  2021 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) لٹنے والا اور لوٹنے والا دونوں ہی مجبور، نجی ٹی وی چینل 24 نیوز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کراچی میں سٹور میں ڈکیتی کے دوران ڈاکو اور دکاندار میں دلچسپ مکالمہ ہوا۔ دکان دار نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا تو ڈاکو بھی بولا کہ یار کیا کریں جب سے عمران خان آیا ہے مجبور ہیں، دکاندار کی کی اپیل

پر ڈاکو نے کچھ رقم واپس کر دی، دکان دار نے کہا کہ یار دس بیس تو چھوڑ دو گھر بھی جانا ہے۔ ڈاکو نے کہا کہ ہم مجبوری میں یہ کام کر رہے ہیں، اس موقع پر دکاندار نے کہا کہ یار دوبارہ نہ آنا جس پر ڈاکو نے کہا کہ انشاء اللہ دوبارہ نہیں آؤں گا، جب ڈاکو نے کہا کہ سارے پیسے دے دو تو دکاندار نے کہا کہ یار تھوڑے سے پیسے ہیں یہی کوئی ہزار تک ہوں گے۔ دوسری جانب خاتون کو بلیک میل کرنے والے ملزم کی حمایت میں آنے والے ڈی ایس پی شوکت شاہانی کو بھی کیس ملزم نامزد کردیا گیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی عمران امام زیدی کی عدالت میں خاتون کو بلیک میل کرنے اور نازیبا تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کی دھمکیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔جج عمران امام زیدی کے حکم پر ہونے والی تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی، ایف آئی اے سائبر کرائم کے تفتیشی افسر نے کیس کا چالان جمع کرادیا۔چالان کے متن میں بتایا گیا کہ گلستان جوہر میں ملزم اویس انیس کے خلاف کارروائی کے دوران رکاٹ پیدا کی گئی، کاروائی کے دوران کچھ سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد جن کے پاس کلاشنکوف کے ساتھ پہنچے اور ایف آئی اے کو کارروائی سے روکا۔مذکورہ افراد نے ایف آئی اے کی ٹیم کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی بلکہ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ ڈی ایس پی نے خود کو حساس ادارے کا افسر ظاہر کرکے ایف

آئی اے کے کام میں مداخلت کی کوشش کی۔ ایف آئی اے ٹیم کو دھمکیاں دینے والے شخص کی شناخت ڈی ایس پی شوکت شاہانی کے نام سے ہوئی۔ڈی ایس پی شوکت شاہانی کو ایف آئی اے کے سامنے پیش کیا جائے۔ ملزم اویس انیس نے دوران تفتیش تمام الزامات کو تسلیم کیا ہے۔ ملزم اویس انیس کے خلاف الزامات ثابت ہوتے ہیں۔جج عمران

امام زیدی نے ریمارکس دیئے کہ کسی بھی حساس ادارے کا افسران دوسرے اداروں کے کام میں مداخلت کرہی نہیں سکتا۔ تفتیش سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے ایف آئی اے کو دھمکیاں دینے والا حساس ادارے کا افسر نہیں تھا۔ ڈی ایس پی شوکت شاہانی کو بھی کیس ملزم نامزد کردیا گیا۔درخواست گزار خاتون نے الزام لگایا ہے کہ ملزم مجھے سے شادی کے لئے دبا ڈال رہا تھا اور ملازمت چھوڑنے کا کہہ رہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…