منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

زیادتی کیس میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی منظوری دے دی گئی

datetime 2  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ کی داخلہ کمیٹی نے زیادتی کیس میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی کے بل کی منظوری دے دی۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت اجلاس ہوا۔ رحمان ملک نے کہا کہ بچوں کیساتھ برے سلوک میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے جو قابل تشویش ہے، اس کمیٹی نے کمسن زینب

واقعے کا سوموٹو لیا تھا، کمیٹی نے ظالم قاتل کی سزا تک کیس کی پیروی کی اور انجام تک پہنچ گیا، وقت کی ضرورت ہے کہ ایسے ظالم مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی نے بچوں کے ساتھ برے سلوک کے بل پر بحث کے بعد اکثریت کیساتھ منظور کرلیا۔سینیٹر شہزاد وسیم نے بچوں کے ساتھ اس طرح کے کیسسز میں سرعام پھانسی کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کیسسز میں پہلے ہی دو آرڈیننس آ چکے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی اور قائد ایوان کے درمیان گرما گرمی ہوئی۔چیئرمین کمیٹی رحمان ملک نے کہا کہ سرعام پھانسی کے بل کے ساتھ پہلے سے بنے آرڈیننس بھی فاروڈ کئے جائیں گے اور حکومت کو حق ہے کہ وہ کسی بھی بل کی مخالفت کرے۔ شہزاد وسیم نے کہا کہ کورم پورا ہونے تک اس بل کو روکا جائے لیکن آپ نے اگر بل ایسے ہی بل ڈوز کرنے ہیں تو کمیٹی کا ڈرامہ کیوں، وہ احتجاجاً کمیٹی سے واک آؤٹ کرگئے۔دوسری جانب سینیٹر جاوید عباسی کی جانب سے میت کی بے حرمتی اور ان کے ساتھ برے سلوک کا بل کمیٹی میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میت کے ساتھ برے سلوک کے کیسسز بہت زیادہ ہیں، اگر یہ بل پاس نہ ہوا تو کل کو ہمارے اپنوں نے بھی قبر میں جانا ہے۔کمیٹی نے مردوں کی بے حرمتی پر سزاؤں کا بل بھی مشترکہ طور پر پاس کر دیا۔ چیئرمین کمیٹی نے

قبرستانوں کے گرد چار دیواری اور سیکورٹی بڑھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم انتہائی قابل افسوس ہے سخت سزا دی جائے، قبرستان میں میت کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے والوں کی سزا بھی وہی ہونی چایئے جو زندہ انسان کے ساتھ برے فعل کی ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…