اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )سفید چونے اور سیمنٹ سے بنے شاعرمشرق علامہ محمد اقبال کے مجسمے کی تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق سوشل میڈیا پر شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا ایک مجسمہ بنانے والے کاریگروں کا مذاق بنایا جارہا ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ مذکورہ مجسمہ کسی ماہر مجسمہ ساز کا تخلیق کیا گیا شاہکار نہیں ۔
بلکہ مالیوں کی مفکر پاکستان سے عقیدت کا اظہار ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کے بعد مجسمہ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہےا ور اسے ہٹانے کا کام جاری ہے ۔قپارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے زیر انتظام گلشن اقبال پارک میں نصب کیاگیا شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا ناقص مجسمہ شہریوں کی داد وصول کرنے کے بجائے کڑی تنقید کا باعث بن گیا ، عوام کی شدید ناراضی اوروزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس لینے کے بعد مجسمے کو ہٹا دیا گیا،ڈی جی پی ایچ اے نے دو افسران کو معطل کر کے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی جو سات روز میں اپنی رپورٹ پیش کر یگی ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ علامہ اقبال کا ٹرینڈ گردش کر رہا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے گلشن اقبال پارک لاہور میں نصب کردہ علامہ اقبال کے مجسمے کو اناڑی فنکار کی کاریگری کے سبب آڑے ہاتھوں لیا اور اسے ناقص مجسمہ قرار دیا گیا ۔سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں رپورٹ ہونے کے بعد پنجاب حکومت نے اس پر فی الفور نوٹس لیتے ہوئے احکامات جاری کئے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گلشن اقبال پارک میں مجسمہ رکھنے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی پی ایچ اے سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور پارک میں مجسمہ رکھنے کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ جامع انکوائری کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوںنے کہاکہ پارک میں مجسمہ رکھنے کا واقعہ متعلقہ حکام کی غفلت ہے۔ کوتاہی برتنے والوں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو گی۔دریں اثناء وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر مجسمے کو ہٹا دیا گیاہے-ڈی جی پی ایچ اے احمد جواد قریشی نے ڈپٹی ڈائریکٹر پراجیکٹ شاہنواز وٹو اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سبطین شاہ کو معطل کر دیا ہے جبکہ ڈائریکٹر عامر ابراہیم کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو سات روز میں اپنی رپورٹ تیا رکر کے پیش کر یگی ۔



















































